رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ محض صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے باطن کو پاک کرنے، نفس کو قابو میں لانے اور کردار کو سنوارنے کا مہینہ ہے۔ رمضان کا ہر دن ایک روحانی سفر ہے — ایسا سفر جو بندے کو اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ آج رمضان کے چھٹے دن ہم ایک اہم حقیقت پر غور کرتے ہیں:
روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں۔
اگر صرف بھوکا رہنا ہی روزہ ہوتا تو دنیا کے وہ تمام لوگ جو فاقہ کرتے ہیں سب سے بڑے روزہ دار شمار ہوتے۔ مگر اسلام میں روزہ ایک مکمل عبادت ہے — جو جسم کے ساتھ روح کی بھی تربیت کرتا ہے۔
آئیے اس موضوع کو قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
📖 قرآن کی روشنی میں روزہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔”
(سورۃ البقرہ 2:183)
یہ آیت روزے کا اصل مقصد واضح کرتی ہے — تقویٰ۔
✅ تقویٰ کیا ہے؟
تقویٰ کا مطلب ہے:
-
اللہ کا خوف
-
ہر وقت اس کی نگرانی کا احساس
-
گناہوں سے بچنا
-
اس کی اطاعت میں زندگی گزارنا
جب روزہ دار حلال چیزیں بھی اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے نفس کو حرام سے رکنے کی تربیت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
“یہ روزے گنے ہوئے چند دنوں کے لیے ہیں…” (2:184)
یعنی رمضان ایک تربیتی مدت ہے — پوری زندگی کو سنوارنے کی مشق۔
ایک اور آیت میں روزے کی حدود بیان ہوئیں:
“کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر کی سفیدی رات کی سیاہی سے نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات تک پورا کرو۔” (2:187)
یہ ظاہری قانون ہے، مگر قرآن بار بار روزے کی باطنی حکمت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
🕌 حدیث کی روشنی میں روزہ
نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ روزہ صرف پیٹ کا نہیں ہوتا۔
1️⃣ جھوٹ نہ چھوڑا تو روزہ بے روح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔”
(صحیح بخاری)
اگر کوئی روزہ رکھ کر بھی:
-
جھوٹ بولے
-
دھوکہ دے
-
گالی دے
تو اس کا روزہ روحانی اعتبار سے خالی ہے۔
2️⃣ بعض کو صرف بھوک ملتی ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
“کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔”
(ابن ماجہ)
یہی ہمارے عنوان کا خلاصہ ہے۔
3️⃣ روزہ ڈھال ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
“روزہ ڈھال ہے۔” (بخاری، مسلم)
یہ ڈھال بچاتی ہے:
-
جہنم سے
-
گناہوں سے
-
نفس سے
-
شیطان سے
4️⃣ روزے کا خصوصی اجر
حدیث قدسی میں اللہ فرماتا ہے:
“روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔” (بخاری)
کیونکہ روزہ خالص ترین عبادت ہے — اس کی حقیقت صرف اللہ جانتا ہے۔
⚖️ فقہ کی روشنی میں روزہ
فقہ روزے کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلو بیان کرتی ہے۔
1️⃣ روزے کی تعریف
فقہ کے مطابق:
صبح صادق سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور جماع سے رکنا روزہ ہے۔
یہ روزے کی قانونی صحت ہے — مگر قبولیت الگ چیز ہے۔
2️⃣ روزے کے درجات
علماء نے تین درجات بیان کیے:
🥉 عام لوگوں کا روزہ
صرف کھانے پینے سے رکنا۔
🥈 خاص لوگوں کا روزہ
اعضاء کو گناہ سے بچانا۔
🥇 خاص الخاص کا روزہ
دل کو غیر اللہ سے خالی کرنا۔
3️⃣ اجر کو کم کرنے والی چیزیں
اگرچہ روزہ نہیں ٹوٹتا مگر ثواب کم ہو جاتا ہے:
-
غیبت
-
چغلی
-
جھوٹ
-
گالی
-
فحش کلام
-
دھوکہ
علماء فرماتے ہیں:
یہ اعمال روزے کے اجر کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں۔
4️⃣ روزے کو مضبوط کرنے والے اعمال
-
تلاوتِ قرآن
-
صدقہ
-
تراویح
-
ذکر و استغفار
-
محتاجوں کو کھلانا
🌙 بھوک کی روحانی حکمت
1️⃣ تکبر ٹوٹتا ہے
انسان اپنی کمزوری پہچانتا ہے۔
2️⃣ ہمدردی پیدا ہوتی ہے
غریبوں کا احساس ہوتا ہے۔
3️⃣ خواہشات کم ہوتی ہیں
خالی پیٹ نفس کو کمزور کرتا ہے۔
🧠 نفسیاتی و اخلاقی تربیت
روزہ انسان میں پیدا کرتا ہے:
-
صبر
-
ضبطِ نفس
-
نظم و ضبط
-
غصے پر قابو
رمضان زندگی سنوارنے کی عملی تربیت ہے۔
❤️ اعضاء کا روزہ
👁️ آنکھ کا روزہ
حرام سے بچنا۔
👂 کان کا روزہ
غیبت سے بچنا۔
👅 زبان کا روزہ
جھوٹ سے بچنا۔
💓 دل کا روزہ
حسد و نفرت سے پاکی۔
🌟 مقبول روزے کی نشانیاں
-
عبادت میں اضافہ
-
دل کی نرمی
-
گناہوں میں کمی
-
صدقہ میں اضافہ
🏁 خلاصہ
رمضان کے چھٹے دن ہمیں یاد رکھنا چاہیے:
روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں۔
بلکہ یہ ہے:
-
تقویٰ
-
صبر
-
اخلاص
-
رحم دلی
-
اطاعت
اگر ہم صرف بھوکے رہے — تو تھکن ملی۔
اگر گناہوں سے بھی رکے — تو قربِ الٰہی ملا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے روزوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قبول فرمائے۔
آمین۔

