تمہید
رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے کی عظیم عبادات میں سے ایک تراویح نماز ہے جو عشاء کی نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے۔
تراویح محض نفل عبادت نہیں بلکہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے، گناہوں کی معافی حاصل کرنے اور اللہ کے قرب میں بڑھنے کا ذریعہ ہے۔ رمضان کے آٹھویں دن اس عبادت کے فضائل، اس کی تاریخ، صحابہ کرام کا عمل اور رکعات کی تعداد کے بارے میں علماء کے اقوال کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔
1. تراویح کا معنی اور تعارف
لفظ تراویح عربی لفظ “راحة” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے آرام۔
چار رکعت کے بعد صحابہ کرام کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرتے تھے، اسی لیے اس نماز کو تراویح کہا گیا۔
اسے یہ بھی کہا جاتا ہے:
-
قیامُ ال رمضان
-
قیامُ اللیل
2. قرآن میں تراویح کی بنیاد
تراویح کا نام صراحتاً نہیں آیا، مگر رات کی نماز کا حکم موجود ہے۔
اہم آیات
سورۃ المزمل (73:2-4)
“رات کو قیام کرو مگر تھوڑا…”
سورۃ السجدہ (32:16)
“ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں…”
سورۃ الذاریات (51:17-18)
“وہ رات کو کم سوتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے۔”
مفسرین کے مطابق تراویح انہی احکاماتِ قیامُ اللیل کی رمضان میں عملی صورت ہے۔
3. احادیث میں تراویح کے فضائل
1. گناہوں کی مغفرت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔”
— (بخاری، مسلم)
2. پوری رات کے قیام کا ثواب
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو امام کے ساتھ آخر تک نماز پڑھے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے۔”
— (ترمذی، ابو داؤد)
4. تراویح کا آغاز — تاریخی پس منظر
عہدِ نبوی ﷺ میں
-
ابتدا میں آپ ﷺ گھر میں قیام فرماتے
-
ایک رات مسجد میں ادا کی — صحابہ شامل ہوگئے
-
اگلی رات تعداد بڑھ گئی
-
پھر آپ باہر تشریف نہ لائے
وجہ
آپ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے۔”
— (بخاری، مسلم)
لہٰذا یہ فرض نہیں بلکہ سنت رہی۔
5. عہدِ صحابہ میں تراویح
نبی ﷺ کے وصال کے بعد:
-
لوگ اکیلے پڑھتے
-
چھوٹے گروہوں میں پڑھتے
-
ایک جماعت نہ تھی
یہی کیفیت خلافتِ ابوبکرؓ میں بھی رہی۔
6. حضرت عمر فاروقؓ کا کردار
جب حضرت عمر بن الخطابؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے دیکھا:
-
لوگ منتشر ہو کر تراویح پڑھ رہے ہیں
انہوں نے سب کو ایک امام کے پیچھے جمع کیا — حضرت اُبیّ بن کعبؓ۔
حضرت عمرؓ کا قول
“یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔”
علماء وضاحت کرتے ہیں:
-
دین میں نئی عبادت ایجاد نہ تھی
-
بلکہ موجود سنت کو اجتماعی شکل دی گئی
7. رکعات کی تعداد — 8 یا 20؟
یہ مسئلہ قدیم علمی اختلاف کا ہے۔
قول 1 — 8 رکعت
دلیل:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
“نبی ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں 11 رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔”
— (بخاری، مسلم)
(8 تراویح + 3 وتر)
قول 2 — 20 رکعت
جمہور علماء کا موقف:
-
حضرت عمرؓ کا عمل
-
صحابہ کا اجماع
-
صدیوں کا تعامل
قائلین:
-
امام ابو حنیفہ
-
امام شافعی
-
امام احمد (مشہور قول)
قول 3 — وسعت والا موقف
بعض علماء:
-
تعداد مقرر نہیں
-
8، 20 یا زیادہ
ابن تیمیہؒ:
-
طویل قراءت → کم رکعت
-
مختصر قراءت → زیادہ
8. کون سا افضل؟
معتدل خلاصہ:
-
دونوں درست
-
دونوں سنت سے ثابت
-
جھگڑا ناجائز
بہتر:
-
اپنی مسجد کی پیروی
-
اتحاد قائم رکھنا
9. تراویح کے روحانی فوائد
-
گناہوں کی مغفرت
-
قرآن سے تعلق
-
ایمان میں اضافہ
-
دل کی نرمی
-
اللہ کا قرب
10. قرآن سے گہرا تعلق
تراویح میں:
-
مکمل قرآن سنا جاتا
-
تدبر ہوتا
-
وحی کا احساس تازہ ہوتا
11. جسمانی و نفسیاتی فوائد
-
صبر پیدا ہوتا
-
نظمِ زندگی بنتا
-
ذہنی سکون
-
روحانی اطمینان
12. خواتین اور تراویح
خواتین:
-
مسجد جا سکتی ہیں
-
گھر میں بھی پڑھ سکتی ہیں
حدیث:
“اللہ کی بندیوں کو مسجد جانے سے نہ روکو…”
مگر گھر افضل بتایا گیا۔
13. سلف صالحین کی تراویح
پہلے لوگ:
-
طویل قیام
-
سینکڑوں آیات
-
لاٹھی کے سہارے کھڑے
14. عام غلط فہمیاں
-
20 بدعت؟ — غلط
-
صرف 8 سنت؟ — ادھورا فہم
-
تیز قرآن؟ — درست نہیں
15. بہتر تراویح کے عملی نکات
-
عشاء سے پہلے آرام
-
پانی پینا
-
معانی سمجھنا
-
دعا کرنا
-
پابندی کرنا
16. مسجد یا گھر؟
مسجد: جماعت، ماحول، مکمل قرآن
گھر: سکون، سہولت، توجہ
دونوں جائز۔
17. حضرت عمرؓ کی میراث
-
سنت کا احیاء
-
امت کا اتحاد
-
منظم عبادت
خلاصہ
تراویح رمضان کی روح ہے۔
اس میں جمع ہیں:
-
قرآن
-
قیام
-
مغفرت
-
اتحاد
-
روحانیت
چاہے 8 رکعت ہوں یا 20 — اصل مقصد:
اخلاص کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہونا۔

