رمضان دن 12: روزہ دار کو افطار کروانے کا ثواب

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے میں ہر نیک عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انہی عظیم اعمال میں سے ایک نہایت فضیلت والا عمل ہے — روزہ دار کو افطار کروانا۔ یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ کی رضا کے قریب اور جہنم سے دور کرتا ہے۔

رمضان کے بارہویں دن ہم قرآن و حدیث اور صحابۂ کرامؓ کے واقعات کی روشنی میں اس عظیم عمل کی فضیلت کو سمجھتے ہیں۔


قرآن مجید میں کھانا کھلانے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

“اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔”
— سورۃ الانسان (76:8-9)

یہ آیات ہمیں اخلاص سکھاتی ہیں کہ کھانا کھلانا صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ خالص عبادت ہے — جب نیت اللہ کی رضا ہو۔

ایک اور مقام پر اللہ فرماتا ہے:

“جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیاں اگیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہے بڑھا دیتا ہے۔”
— سورۃ البقرہ (2:261)

جب عام صدقہ 700 گنا بڑھتا ہے تو رمضان میں روزہ دار کو افطار کروانے کا اجر کس قدر ہوگا — اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


احادیث میں افطار کروانے کا عظیم اجر

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔”
— ترمذی

یہ کتنی بڑی خوشخبری ہے:

  • بغیر روزہ رکھے روزے کا اجر

  • روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں

  • اللہ کے خزانے سے دونوں کو مکمل بدلہ


تھوڑا سا بھی افطار کافی ہے

اسلام آسانی کا دین ہے۔ بڑی دعوت شرط نہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جہنم سے بچو، چاہے آدھی کھجور دے کر ہی کیوں نہ ہو۔”
— بخاری و مسلم

یعنی اگر آپ افطار میں دیں:

  • ایک کھجور

  • پانی

  • دودھ

  • یا معمولی سا کھانا

تب بھی عظیم اجر مل سکتا ہے — اگر نیت خالص ہو۔


رمضان میں نبی ﷺ کی سخاوت

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

“رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں آپ کی سخاوت اور بڑھ جاتی تھی۔”
— بخاری

آپ ﷺ روزہ داروں کو کھانا کھلاتے، غریبوں کا خیال رکھتے اور صحابہؓ کو بھی اس کی ترغیب دیتے۔


صحابۂ کرامؓ کے ایمان افروز واقعات

1. حضرت عبداللہ بن عمرؓ

آپ کبھی اکیلے افطار نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی غریب نہ ملتا تو تلاش کرتے۔

کئی مرتبہ اپنا پورا کھانا غریب کو دے دیتے اور خود بھوکے سو جاتے۔


2. حضرت علیؓ کا گھرانہ

حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے تین دن روزہ رکھا۔

ہر دن افطار کے وقت:

  • ایک دن مسکین آیا

  • دوسرے دن یتیم

  • تیسرے دن قیدی

ہر بار اپنا کھانا دے دیا اور پانی سے روزہ افطار کیا۔

ان کے اس ایثار پر سورۃ الانسان کی آیات نازل ہوئیں۔


3. حضرت سعد بن عبادہؓ

آپ کثرت سے روزہ داروں کو افطار کرواتے۔ آپ کا گھر رمضان میں مہمان خانہ بن جاتا تھا۔


افطار کروانے کے معاشرتی فوائد

  • مسلمانوں میں محبت بڑھتی ہے

  • غریبوں کی مدد ہوتی ہے

  • مساجد آباد ہوتی ہیں

  • صدقے کی عادت بنتی ہے


آج کے دور میں اجر کمانے کے طریقے

  • مسجد میں افطار اسپانسر کریں

  • مزدوروں کو کھانا کھلائیں

  • غریب گھروں میں راشن بھیجیں

  • سڑک افطار اسٹال لگائیں

  • کھجور اور پانی تقسیم کریں

  • مستند چیریٹی کو عطیہ دیں


پوشیدہ اجر

افطار کروانے سے آپ کو ملتا ہے:

  • روزے کا اجر

  • صدقے کا اجر

  • روزہ دار کی دعائیں

  • فرشتوں کی رحمت

  • جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ

افطار کے وقت روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے — وہ آپ کے لیے بھی دعا کر سکتا ہے۔


رمضان دن 12 کا پیغام

  • سخاوت بڑھائیں

  • روزہ دار تلاش کریں

  • کھانا شیئر کریں

  • گھروں کو رحمت کا مرکز بنائیں

خود سے پوچھیں:

“آج میں کس روزہ دار کو افطار کرواؤں گا؟”


خلاصہ

روزہ دار کو افطار کروانا آسان مگر عظیم عمل ہے۔

  • قرآن نے تعریف کی

  • نبی ﷺ نے خوشخبری دی

  • صحابہؓ نے عمل کر کے دکھایا

آئیے نیت کریں:

  • کم از کم ایک روزہ دار کو افطار کروائیں

  • صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں

  • رمضان کے اجر کو کئی گنا بڑھائیں


دعا:
اللہ تعالیٰ ہمیں روزے قبول فرمائے، روزہ داروں کو افطار کروانے کی توفیق دے اور رمضان کی بے شمار برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے