رمضان میں تراویح — 8 رکعت یا 20 رکعت؟

Ramadn Tarawih urdu

قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تفصیلی جائزہ

رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی سب سے اہم عبادات میں سے ایک صلاۃ التراویح ہے، جو عشاء کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ صدیوں سے مسلمانوں کے درمیان ایک سوال زیرِ بحث رہا ہے:

تراویح 8 رکعت پڑھیں یا 20 رکعت؟

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں درج ذیل پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا:

  • قرآنِ مجید کی رہنمائی

  • احادیثِ نبوی ﷺ

  • نبی کریم ﷺ کا عمل

  • صحابۂ کرامؓ کا طریقہ

  • حضرت عمرؓ کا فیصلہ

  • مکہ و مدینہ کی صدیوں پر محیط روایت

  • بعد کے ادوار کا اختلاف


1️⃣ قرآنِ مجید میں قیامِ رمضان

قرآنِ پاک میں تراویح کی رکعتوں کی تعداد صراحتاً مذکور نہیں، مگر رات کے قیام کی بہت تاکید آئی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے…”
(البقرہ 183)

اور رات کے قیام کے بارے میں:

“رات کو قیام کرو مگر تھوڑا سا۔”
(المزمل 2)

ان آیات سے معلوم ہوا:

  • رمضان میں رات کی عبادت مشروع ہے۔

  • قیام کی ترغیب دی گئی ہے۔

  • رکعتوں کی تعداد مقرر نہیں کی گئی۔

لہٰذا تعداد کا تعین احادیث اور صحابہؓ کے عمل سے ہوتا ہے۔


2️⃣ نبی کریم ﷺ کا تراویح پڑھانا

صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے باجماعت تراویح پڑھائی۔

حدیث (3 راتوں کا واقعہ)

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی… پھر دوسری… پھر تیسری رات… چوتھی رات مسجد بھر گئی مگر آپ تشریف نہ لائے۔
(بخاری، مسلم)

پھر فرمایا:

“مجھے خوف ہوا کہ یہ تم پر فرض نہ ہو جائے۔”


3️⃣ نبی ﷺ نے کتنی رکعت پڑھیں؟

یہاں سے اصل اختلاف شروع ہوتا ہے۔

8 رکعت کی دلیل

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

“نبی ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں 11 رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔”
(بخاری)

اس میں:

  • 8 رکعت قیام

  • 3 رکعت وتر

اسی سے بعض علماء 8 رکعت تراویح کا قول لیتے ہیں۔


4️⃣ اس حدیث کی وضاحت

اکثر محدثین و فقہاء فرماتے ہیں:

  • یہ تہجد کا بیان ہے، تراویح کا نہیں۔

  • کیونکہ روایت میں ہے: رمضان اور غیر رمضان۔

  • تراویح صرف رمضان میں ہوتی ہے۔

لہٰذا اس حدیث کو تراویح کی حد مقرر کرنا درست نہیں۔


5️⃣ عہدِ صحابہؓ میں تراویح

نبی ﷺ کے وصال کے بعد:

  • لوگ انفرادی طور پر تراویح پڑھتے رہے۔

  • حضرت ابو بکرؓ کے دور میں بھی یہی طریقہ رہا۔


6️⃣ حضرت عمرؓ کا 20 رکعت پر اجتماع

حضرت عمر فاروقؓ نے دیکھا:

  • لوگ مختلف گروہوں میں نماز پڑھ رہے ہیں۔

  • آپ نے سب کو ایک امام (اُبیّ بن کعبؓ) کے پیچھے جمع کیا۔

پھر فرمایا:

“یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔”
(بخاری)

یعنی انتظامی جدت — دینی بدعت نہیں۔

رکعتوں کی تعداد

روایات میں ہے:

“حضرت عمرؓ کے زمانے میں لوگ 20 رکعت پڑھتے تھے۔”
(مصنف ابن ابی شیبہ، بیہقی)

یہ عمل جاری رہا:

  • حضرت عثمانؓ

  • حضرت علیؓ

  • تابعین

  • ائمہ مجتہدین

کسی صحابی نے انکار نہ کیا — یہ اجماع کی علامت ہے۔


7️⃣ اگر 3 رات والی حدیث پر عمل کریں؟

بعض لوگ کہتے ہیں:

نبی ﷺ نے صرف 3 رات پڑھائی — تو اتنی ہی کافی۔

مگر اگر یہ اصول مانیں تو:

  • پورا مہینہ تراویح نہیں ہونی چاہیے۔

  • صرف 3 رات ہونی چاہیے۔

لیکن پوری امت 1400 سال سے پورا مہینہ پڑھ رہی ہے۔

کیوں؟

کیونکہ نبی ﷺ نے ترک ممانعت کی وجہ سے کیا، نہ کہ عدمِ جواز کی وجہ سے۔


8️⃣ مکہ و مدینہ کی صدیوں کی روایت

مکہ مکرمہ

https://www.thenews.com.pk//assets/uploads/updates/2019-04-30/465213_4402080_Khaan-Kaaba_updates.jpg
https://idsb.tmgrup.com.tr/ly/uploads/images/2021/04/14/107902.jpg
https://pbs.twimg.com/media/FRY1Bl6WUAImyal.jpg
4
  • 20 رکعت تراویح

  • صدیوں سے یہی معمول


مدینہ منورہ

https://cdn.antaranews.com/cache/1200x800/2022/04/03/IMG_20220403_054756.jpg
https://web14.bernama.com/storage/photos/7290de33c46a93763ec430da7403f72e60751b11d83f1
https://www.heloindonesia.com/photo/upload/2026/1770797997_1-org.jpeg
4
  • 20 رکعت تاریخی معمول

  • بعض ادوار میں 36 رکعت بھی

یہ تسلسل 8 سے زیادہ پر دلالت کرتا ہے۔


9️⃣ چاروں فقہی مذاہب کا موقف

مذہب رکعت
حنفی 20
مالکی 20 (بعض اوقات 36)
شافعی 20
حنبلی 20

یہ امت کا صدیوں پر محیط علمی اجماع ہے۔


🔟 8 رکعت کا نظریہ کب پھیلا؟

بعد کے ادوار میں بعض حلقوں نے:

  • حدیثِ عائشہؓ کو بنیاد بنایا

  • تہجد کو تراویح پر قیاس کیا

  • 8 رکعت پر زور دیا

یہ رائے جدید دور میں زیادہ مشہور ہوئی، خصوصاً سلفی مکتب میں۔


1️⃣1️⃣ خلفائے راشدین کی سنت

نبی ﷺ نے فرمایا:

“میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑو۔”
(ابو داؤد، ترمذی)

لہٰذا:

  • حضرت عمرؓ کا فیصلہ حجت ہے۔

  • خصوصاً جب تمام صحابہؓ متفق ہوں۔


1️⃣2️⃣ کون سا طریقہ بہتر ہے؟

دونوں جائز ہیں

  • 8 رکعت بھی درست

  • 20 رکعت بھی درست

  • یہ نفل عبادت ہے

لہٰذا ایک دوسرے کو غلط کہنا درست نہیں۔


مگر 20 رکعت کو ترجیح کیوں؟

علماء کے دلائل:

  1. صحابہؓ کا اجماع

  2. حضرت عمرؓ کی تنظیم

  3. امت کا تسلسل

  4. حرمین شریفین کا عمل

  5. چاروں مذاہب کی تائید

  6. قرآن ختم کرنے کی سہولت


1️⃣3️⃣ روحانی حکمت

رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔

زیادہ رکعت =

  • زیادہ قیام

  • زیادہ تلاوت

  • زیادہ اجر

  • زیادہ خشوع


1️⃣4️⃣ اتحادِ امت

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:

“امام کے ساتھ پڑھو — چاہے وہ 8 پڑھائے یا 20۔”

کیونکہ:

  • اتحاد > اختلاف


خلاصہ

  • قرآن نے تعداد مقرر نہیں کی۔

  • نبی ﷺ نے 3 رات باجماعت پڑھائی۔

  • 8 یا 20 کی صراحت نہیں فرمائی۔

  • حضرت عمرؓ نے 20 پر جمع کیا۔

  • تمام صحابہؓ نے قبول کیا۔

  • حرمین میں صدیوں سے 20۔

  • چاروں مذاہب کا یہی موقف۔


حتمی بات

اگر 3 رات والی حدیث کو literal لیں تو پورا مہینہ تراویح ہی نہ ہو — مگر امت نے ایسا نہیں کیا۔

اس سے واضح ہے کہ:

تراویح کے پورے مہینے اور 20 رکعت کا عملی نظام حضرت عمرؓ کی سنت اور اجماعِ صحابہؓ سے ثابت ہے۔

لہٰذا اگرچہ 8 رکعت جائز ہے، مگر:

20 رکعت امت کا تاریخی، اجماعی اور حرمین شریفین سے متصل مضبوط طریقہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے