روزہ کن لوگوں پر فرض نہیں اور روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کیا کرنا لازم ہے؟
تمہید (Introduction)
رمضان المبارک کا روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ تقویٰ، صبر، نفس کی تربیت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جامع ذریعہ ہے۔
اسلام ایک دینِ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کبھی کسی چیز کا مکلف نہیں بنایا۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں کچھ خاص حالات میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت (چھوٹ) دی گئی ہے، اور ساتھ ہی اس کا متبادل حکم (قضا یا فدیہ) بھی واضح کر دیا گیا ہے۔
اس مضمون میں ہم تفصیل سے جانیں گے:
-
روزہ کن لوگوں پر فرض نہیں
-
کن حالات میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے
-
قضا اور فدیہ کیا ہیں
-
قرآن و حدیث اور تفاسیر کی روشنی میں مکمل احکام
📖 قرآنِ مجید میں روزے کی فرضیت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
"اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”
(سورۃ البقرہ 2:183)
اسی کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔”
(سورۃ البقرہ 2:184)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں فرض کے ساتھ آسانی اور رحمت بھی شامل ہے۔
2.1 🕌 روزہ کن لوگوں پر فرض نہیں؟ (شرعی رخصتیں)
1️⃣ بیمار شخص
قرآنی دلیل
“…اور جو بیمار ہو…”
(البقرہ 2:184)
تفسیر کی روشنی میں
ائمۂ تفسیر جیسے امام ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ:
اگر روزہ رکھنے سے:
-
بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو
-
صحت یابی میں تاخیر ہو
-
شدید مشقت یا نقصان ہو
تو ایسے شخص کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔
شرعی حکم
-
عارضی بیماری → بعد میں روزے رکھنا ہوں گے (قضا)
-
دائمی یا لاعلاج بیماری → روزہ معاف، فدیہ لازم
2️⃣ مسافر
قرآنی دلیل
“…یا سفر پر ہو…”
(البقرہ 2:184)
حدیثِ نبوی ﷺ
نبی کریم ﷺ سفر میں کبھی روزہ رکھتے تھے اور کبھی چھوڑ دیتے تھے، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
شرعی حکم
-
سفر میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے
-
بعد میں اتنے ہی روزوں کی قضا فرض ہے
3️⃣ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت
حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ ساقط کیا اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی۔”
وضاحت
اگر روزہ رکھنے سے:
-
ماں کو نقصان ہو
-
بچے کی صحت متاثر ہو
-
دودھ کم ہونے کا اندیشہ ہو
تو روزہ چھوڑنا جائز ہے۔
حکم
-
بعد میں قضا لازم ہے
-
بعض فقہاء کے نزدیک ضرورت کی صورت میں فدیہ بھی
4️⃣ بوڑھا شخص (ضعیف العمر)
قرآنی دلیل
"اور جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔”
(البقرہ 2:184)
حکم
-
جو بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے
-
اور آئندہ طاقت آنے کی امید نہیں
ان پر:
-
روزہ فرض نہیں
-
قضا نہیں
-
صرف فدیہ
5️⃣ ذہنی طور پر نااہل شخص
حدیث
نبی ﷺ نے فرمایا:
"تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچہ، سویا ہوا شخص، اور دیوانہ۔”
حکم
-
روزہ فرض نہیں
-
قضا نہیں
-
فدیہ نہیں
6️⃣ نابالغ بچے
-
روزہ بلوغت کے بعد فرض ہوتا ہے
-
بچوں کو تربیت کے لیے عادت ڈلوائی جا سکتی ہے
-
نہ رکھنے پر کوئی گناہ نہیں
7️⃣ حیض اور نفاس والی عورت
حدیث
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی نہیں۔”
حکم
-
اس حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے
-
بعد میں روزوں کی قضا فرض ہے
2.2 🕌 روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کیا کرنا ہوگا؟
اسلام نے دو متبادل مقرر کیے ہیں:
-
قضا
-
فدیہ
🔹 قضا کیا ہے؟
قضا کا مطلب ہے:
👉 چھوٹے ہوئے روزوں کو بعد میں پورا کرنا
قضا کن پر لازم ہے؟
-
عارضی بیمار
-
مسافر
-
حاملہ و دودھ پلانے والی
-
حیض و نفاس والی عورت
قضا کے اصول
-
ایک روزے کے بدلے ایک روزہ
-
مسلسل ہونا ضروری نہیں
-
اگلے رمضان سے پہلے ادا کرنا بہتر ہے
🔹 فدیہ کیا ہے؟
فدیہ کا مطلب ہے:
👉 روزہ رکھنے کی مستقل نااہلی کی صورت میں غریب کو کھانا کھلانا
فدیہ کن پر لازم ہے؟
-
بہت زیادہ بوڑھے افراد
-
دائمی مریض
فدیہ کی مقدار
-
ہر روزے کے بدلے
-
ایک مسکین کو ایک وقت کا کھانا
-
یا اس کے برابر رقم
⚠️ کفارہ کیا ہے؟ (مختصراً)
اگر کوئی شخص:
-
جان بوجھ کر
-
بلاعذر
-
رمضان کا روزہ توڑ دے
تو اس پر:
-
60 دن کے مسلسل روزے
-
یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا
یہ قضا اور فدیہ سے الگ حکم ہے۔
🌙 اسلام کی رحمت اور حکمت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔”
(البقرہ 2:286)
روزہ عذاب نہیں بلکہ روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
رمضان کا روزہ فرض ہے، مگر اسلام کسی کو مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔
بیماری، سفر، بڑھاپے اور مجبوری کی حالت میں:
-
کہیں قضا
-
کہیں فدیہ
یہ احکام اسلام کی رحمت، عدل اور حسن کی واضح دلیل ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح طریقے سے روزہ رکھنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🌙

