رمضان دن 4 – روزہ ایک خاص عبادت کیوں ہے؟ (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

تعارف

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا صرف صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ اسلام کی سب سے منفرد اور روح کو بدل دینے والی عبادات میں سے ایک ہے۔ اسلام کے ہر رکن میں گہری حکمت موجود ہے، لیکن روزے کو ایک خاص مقام حاصل ہے کیونکہ یہ بندے کو اپنے رب کے ساتھ ایک نہایت ذاتی، پوشیدہ اور مخلص تعلق میں جوڑ دیتا ہے۔

رمضان کے چوتھے دن یہ سمجھنا کہ روزہ اتنا خاص کیوں ہے ہمیں جسمانی بھوک سے اوپر اٹھا کر اس کے روحانی راز، قرآنی بنیاد اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔


1. روزہ قرآن میں براہِ راست اللہ کا حکم ہے

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔”
(سورۃ البقرہ 2:183)

اس آیت میں تین اہم نکات ہیں:

  1. روزہ فرض ہے۔
  2. یہ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھا۔
  3. اس کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔

دیگر عبادات زیادہ تر ظاہری اعمال ہیں، مگر روزہ انسان کے باطن میں اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے۔


2. روزہ صرف اللہ کے لیے ہے

ایک مشہور حدیثِ قدسی میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“ابنِ آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

روزے کو الگ کیوں کیا گیا؟

علماء فرماتے ہیں:

  • نماز دیکھی جاتی ہے۔
  • زکوٰۃ لکھی جاتی ہے۔
  • حج مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
  • مگر روزہ پوشیدہ عبادت ہے۔

کوئی شخص ظاہر میں روزہ دار ہو سکتا ہے مگر چھپ کر کھا سکتا ہے — اگر وہ حقیقتاً روزہ رکھتا ہے تو صرف اللہ کے خوف سے۔

اس طرح روزہ:

  • اخلاص کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
  • بندے اور رب کا ذاتی عہد ہے۔

3. روزہ تقویٰ پیدا کرتا ہے

آیت 2:183 — “تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔”

تقویٰ کا مطلب:

  • ہر وقت اللہ کی موجودگی کا احساس۔
  • گناہوں سے بچنا۔
  • دل میں اللہ کا خوف اور محبت۔

روزے میں:

  • حلال کھانا چھوڑتے ہو → حرام سے بچنا سیکھتے ہو۔
  • بھوک برداشت کرتے ہو → غصہ قابو کرتے ہو۔
  • خواہش روکتے ہو → نفس قابو کرتے ہو۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

“روزہ ڈھال ہے۔”
(صحیح بخاری)


4. روزہ خواہشات کی طاقت توڑ دیتا ہے

انسان کے اکثر گناہ دو چیزوں سے ہوتے ہیں:

  1. پیٹ
  2. شہوت

روزہ دونوں کو کمزور کرتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے… اور جو نہ رکھے وہ روزہ رکھے کیونکہ یہ اس کے لیے ڈھال ہے۔”
(بخاری، مسلم)


5. روزے کا اجر بے حساب ہے

دیگر اعمال کا اجر مقرر ہوتا ہے:

  • 10 گنا
  • 70 گنا
  • 700 گنا

مگر روزے کا نہیں۔

کیونکہ اللہ نے فرمایا:

“میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔”

یعنی:

  • لامحدود اجر
  • بے انتہا انعام
  • براہِ راست اللہ کی طرف سے بدلہ

6. روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو پسند ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:

“روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پسندیدہ ہے۔”
(صحیح بخاری)


7. روزہ قیامت کے دن سفارش کرے گا

نبی ﷺ نے فرمایا:

“روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے۔”
(مسند احمد)

روزہ کہے گا:

“اے رب! میں نے اسے کھانے اور خواہش سے روکا — میری سفارش قبول فرما۔”


8. جنت کا خاص دروازہ — الریان

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جنت میں ایک دروازہ ہے جسے الریان کہتے ہیں، اس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔”
(بخاری، مسلم)


9. روزہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جس نے ایمان اور اجر کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
(بخاری، مسلم)


10. روزہ صبر سکھاتا ہے

روزہ تین قسم کا صبر سکھاتا ہے:

  1. اطاعت پر صبر
  2. گناہ سے صبر
  3. تکلیف پر صبر

اللہ فرماتا ہے:

“صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔”
(الزمر 39:10)


11. روزہ غریبوں کا احساس دلاتا ہے

بھوک دل کو نرم کرتی ہے۔

  • غریب یاد آتے ہیں
  • نعمت کی قدر ہوتی ہے
  • صدقہ بڑھتا ہے

12. روزہ زبان اور کردار سنوارتا ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جو جھوٹ اور برے عمل نہ چھوڑے اللہ کو اس کے بھوکا رہنے کی ضرورت نہیں۔”
(بخاری)


13. روزہ دار کی دو خوشیاں

نبی ﷺ نے فرمایا:

“روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں — افطار کے وقت اور رب سے ملاقات کے وقت۔”
(مسلم)


14. روزہ شیطان کو کمزور کرتا ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:

“شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے — بھوک سے اس کے راستے تنگ کرو۔”
(بخاری)


15. رمضان روزے کی فضیلت بڑھا دیتا ہے

“رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔”
(البقرہ 2:185)


16. روزہ دل کو پاک کرتا ہے

  • دل نرم ہوتا ہے
  • ذکر بڑھتا ہے
  • نماز سے محبت بڑھتی ہے
  • دنیا سے بے رغبتی

17. روزہ زندگی بھر کی تربیت ہے

  • غصہ کنٹرول
  • زبان کنٹرول
  • تہجد
  • صدقہ
  • تلاوت

نتیجہ

روزہ خاص ہے کیونکہ یہ:

  • اللہ کا براہِ راست حکم
  • صرف اسی کے لیے
  • پوشیدہ عبادت
  • تقویٰ پیدا کرنے والا
  • گناہوں سے ڈھال
  • نفس کو توڑنے والا
  • بے حساب اجر والا
  • سفارش کرنے والا
  • الریان کا ذریعہ
  • گناہ مٹانے والا
  • صبر سکھانے والا
  • کردار سنوارنے والا

رمضان کا چوتھا دن یاد دلاتا ہے — روزہ بھوک نہیں، بلندی ہے۔

اللہ ہمیں روزے کی حقیقت سمجھنے، قبول ہونے اور الریان سے داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے