زقّوم: قرآن میں مذکور جہنم کا خوفناک درخت
تمہید
آخرت کے بارے میں قرآنِ مجید میں کئی ایسی ہولناک تصویریں پیش کی گئی ہیں جو انسان کے دل کو لرزا دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے درختِ زقّوم — جہنم کا وہ درخت جو نعمت نہیں بلکہ عذاب کا ذریعہ ہوگا۔
یہ کوئی عام درخت نہیں، بلکہ کافروں اور مجرموں کے لیے تیار کیا گیا ایک دردناک عذاب ہے۔ اس کی شکل، اس کا پھل، اور اس کا اثر — سب کچھ انسانی تصور سے ماورا ہے۔
اس بلاگ میں ہم زقّوم کا ذکر قرآن، حدیث، کلاسیکل تفسیر، روحانی اسباق، دنیا کے درختوں سے تقابل، اس سے بچنے کے طریقے، FAQs اور خلاصہ کے ساتھ تفصیل سے بیان کریں گے۔
1. زقّوم کیا ہے؟
زقّوم جہنم میں اُگنے والا ایک درخت ہے جس کا پھل جہنمیوں کو بطورِ غذا دیا جائے گا۔
علما کے مطابق:
- یہ حقیقی درخت ہے، علامتی نہیں۔
- جہنم کی گہرائی سے نکلتا ہے۔
- اس کا پھل شیطانوں کے سروں جیسا ہوگا۔
- اسے زبردستی کھلایا جائے گا۔
دنیا کے درخت زندگی دیتے ہیں، جبکہ زقّوم عذاب کو بڑھاتا ہے۔
2. قرآن میں زقّوم کا ذکر
زقّوم کا ذکر قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ ہر مقام اس کی ہیبت کو مزید واضح کرتا ہے۔
2.1 سورۃ الصافات (37:62–68)
“کیا یہ بہتر مہمانی ہے یا زقّوم کا درخت؟
بے شک ہم نے اسے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔
وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔
اس کے پھل شیطانوں کے سروں جیسے ہیں۔
وہ اس سے اپنے پیٹ بھریں گے۔
پھر اس پر کھولتا پانی پئیں گے۔”
اہم نکات
- جنت کے کھانوں سے تقابل۔
- جہنم کی تہہ سے اگنا۔
- شیطانی سروں جیسا پھل۔
2.2 سورۃ الدخان (44:43–46)
“بے شک زقّوم کا درخت
گناہگاروں کا کھانا ہے
وہ تیل کی تلچھٹ کی طرح پیٹ میں کھولے گا۔”
یہاں اندرونی عذاب کی شدت بیان ہوئی ہے۔
2.3 سورۃ الواقعہ (56:51–56)
“اے گمراہ جھٹلانے والو!
تم زقّوم کے درخت سے کھاؤ گے
اور اپنے پیٹ بھرو گے
پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے۔”
3. احادیث میں زقّوم کا بیان
رسول اللہ ﷺ نے بھی زقّوم کی ہولناکی بیان فرمائی۔
3.1 اگر ایک قطرہ دنیا میں گر جائے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اگر زقّوم کا ایک قطرہ دنیا میں گر جائے تو دنیا والوں کی زندگی خراب کر دے۔”
اس سے اس کی شدتِ عذاب کا اندازہ ہوتا ہے۔
4. کلاسیکل تفاسیر
4.1 تفسیر ابنِ کثیر
- جہنم کی جڑ سے نکلنا حقیقی ہے۔
- شیطانوں کے سر انتہائی بدصورتی کی مثال ہیں۔
4.2 تفسیر طبری
عرب بدصورتی کو شیطان سے تشبیہ دیتے تھے — اسی اسلوب میں بیان۔
4.3 تفسیر قرطبی
- زقّوم حقیقی درخت ہے۔
- آگ میں اُگنا اللہ کی قدرت ہے۔
5. زقّوم کی تخلیق کی حکمت
5.1 نفسیاتی عذاب
پہلے خوف — پھر جسمانی عذاب۔
5.2 دنیاوی عیش کا بدلہ
حرام میں جینے والوں کے لیے ذلت کا کھانا۔
5.3 جنت سے تقابل
| جنت | جہنم |
|---|---|
| میٹھے پھل | زقّوم |
| ٹھنڈے مشروبات | کھولتا پانی |
| عزت | ذلت |
6. کیا زقّوم حقیقی ہے؟
اہلِ سنت کا اتفاق:
- ہاں، حقیقی ہے۔
- جسمانی عذاب کا حصہ ہے۔
7. کیا دنیا میں اس جیسا کوئی درخت ہے؟
کچھ لوگ تقابل کرتے ہیں:
- مینچنیل (زہریلا درخت)
- اسٹرکنائن
لیکن:
- آگ میں نہیں اگتے
- شیطانی سروں جیسا پھل نہیں
نتیجہ: دنیا میں کوئی مثال نہیں۔
8. کون کھائے گا زقّوم؟
قرآن کے مطابق:
- کافر
- مجرم
- آخرت کے منکر
9. اس انجام سے بچنے کے طریقے
9.1 توحید
9.2 سنت کی پیروی
9.3 توبہ
9.4 صدقہ
9.5 آخرت کا خوف
10. روحانی اسباق
- دنیا فانی ہے
- گناہ کا انجام سخت ہے
- اللہ کی تنبیہ رحمت ہے
11. FAQs
سوال: کتنی بار ذکر آیا؟
تین اہم مقامات۔
سوال: حقیقی یا علامتی؟
حقیقی۔
سوال: کیا ابھی موجود ہے؟
ہاں — جہنم میں۔
12. خلاصہ
- زقّوم جہنم کا درخت ہے۔
- گناہگاروں کی غذا۔
- پیٹ میں کھولتا ہے۔
- حدیث و تفسیر میں تفصیل۔
- دنیا میں مثال نہیں۔

