بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اگر آپ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہؐ کو غور سے پڑھتے ہیں تو ایک سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے
قرآن اور حدیث میں بعض اعداد بار بار کیوں آتے ہیں؟
خاص طور پر 7، 70، 700 اور 70,000
جبکہ 35، 65، 83 یا اس طرح کے دوسرے اعداد تقریباً کہیں نظر نہیں آتے۔
آج کا جدید قاری، جو اعداد کو ہمیشہ ریاضی، حساب اور درست گنتی کے زاویے سے دیکھنے کا عادی ہے، اس بات پر حیران ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید یہ اعداد صرف علامتی ہیں، یا مبالغہ ہیں، یا پھر محض اتفاق۔
حقیقت یہ ہے کہ معاملہ ان سب سے کہیں زیادہ گہرا، منظم اور بامعنی ہے۔
اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے جدید ذہن سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس لسانی، ثقافتی اور فکری دنیا میں جانا ہوگا جس میں قرآن اور حدیث نازل ہوئے۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ایک نہایت واضح، مسلسل اور مربوط نقشہ ہمارے سامنے آتا ہے—جو قرآن، حدیث، عربی ثقافت اور پچھلی آسمانی کتابوں سب کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
یہ مضمون اسی نقشے کو قدم بہ قدم واضح کرے گا، تاکہ آخر میں یہ سوال صرف حل نہ ہو بلکہ دل و دماغ دونوں میں پوری طرح بیٹھ جائے۔
بنیادی غلطی: وحی کو ریاضی کی کتاب سمجھ لینا
آج سب سے بڑی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ قرآن اور حدیث کو ریاضی یا سائنسی کتاب کی طرح پڑھا جاتا ہے۔
جدید ذہن میں:
- ہر عدد بالکل درست ہوتا ہے
- ہر عدد کی حد مقرر ہوتی ہے
- ہر عدد کا مقصد صرف گنتی سمجھا جاتا ہے
لیکن زبان کی تاریخ ریاضی سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔
انسانی تاریخ میں:
- پہلے زبان آئی
- پھر اعداد آئے
- اور بہت بعد میں باقاعدہ ریاضی بنی
شروع میں اعداد کا استعمال معنی ظاہر کرنے کے لیے ہوتا تھا، نہ کہ حساب کتاب کے لیے۔
آج بھی ہم کہتے ہیں:
- میں نے تمہیں ہزار بار کہا
- اس کے لاکھوں مسئلے ہیں
- میں صدیوں سے انتظار کر رہا ہوں
کوئی عقلمند انسان ان جملوں کو لفظی معنی میں نہیں لیتا۔
قرآن اور حدیث انسانوں سے بات کرتے ہیں—دلوں سے، عقل سے، احساس سے۔
یہ وحی کسی مشین یا کمپیوٹر سے نہیں بلکہ انسانی فطرت سے مخاطب ہے۔
سامی زبانوں میں اعداد بطور زبان
عربی زبان سامی زبانوں (Semitic Languages) میں سے ہے، جن میں عبرانی اور آرامی بھی شامل ہیں۔
ان تمام زبانوں میں:
- اعداد صرف گنتی نہیں
- بلکہ معنی، شدت اور وسعت کے اظہار کا ذریعہ بھی ہیں
ان میں سب سے نمایاں عدد 7 ہے۔
عدد 7 کیوں خاص ہے؟
سامی ثقافت میں 7 کمال اور تکمیل کی علامت ہے۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں:
- سات آسمان
- سات زمینیں
- تخلیق کے سات دن
- طواف کے سات چکر
- عبادات میں سات کی تکرار
سات کا مطلب ہے:
کوئی چیز پوری ہو جانا، مکمل ہو جانا
جب یہ بنیاد قائم ہو جاتی ہے تو زبان اس پر مزید تعمیر کرتی ہے۔
7 سے 70 تک: کثرت کی زبان
جب:
- 7 = تکمیل
تو - 70 = بار بار کی تکمیل، بہت زیادہ تکرار، کثرت
عربی محاورے میں:
- 70 کا مطلب اکثر “بہت دفعہ” ہوتا ہے
- یہ حد مقرر کرنے کے لیے نہیں آتا
- بلکہ شدت اور وسعت دکھانے کے لیے آتا ہے
یہ اس دور کے عربوں کی روزمرہ زبان کا حصہ تھا—اسلام سے بہت پہلے۔
اسی لیے قرآن نے بھی اسی زبان کو اختیار کیا۔
قرآن میں 70 کا استعمال: سیاق و سباق سب کچھ ہے
اب ہم قرآنِ مجید کی ان آیات کو دیکھتے ہیں جہاں 70 آیا ہے۔ ہر جگہ سیاق و سباق اس کا مطلب خود واضح کر دیتا ہے۔
1. “اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ بھی مغفرت مانگو…”
(سورۃ التوبہ 9:80)
اس آیت کو بعض لوگ عددی انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں:
- 69 مرتبہ فائدہ ہو سکتا ہے
- 71 مرتبہ کچھ بدل جائے گا
بلکہ اصل پیغام یہ ہے:
کوئی بھی کوشش ان کی حالت نہیں بدل سکتی۔
مفسرین نے اس کو قطعِ طمع کہا ہے—یعنی جھوٹی امید کا دروازہ بند کر دینا۔
یہاں 70 عدد نہیں، مایوسی کی شدت بیان کر رہا ہے۔
2. حضرت موسیٰؑ کے ساتھ ستر آدمی
(سورۃ الاعراف 7:155)
حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو منتخب کیا۔
یہ انتخاب اتفاقی نہیں تھا۔
سامی روایت میں ستر:
- مکمل نمائندگی
- اجتماعی حیثیت
- ذمہ داری اور وقار
کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی لیے پچھلی کتابوں میں بھی ستر بزرگوں کا ذکر ملتا ہے۔
3. ستر ہاتھ لمبی زنجیر
(سورۃ الحاقہ 69:32)
یہ آیت عذاب کی شدت بیان کرتی ہے۔
یہاں:
- کوئی پیمائش مراد نہیں
- کوئی انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں
بلکہ:
عذاب کی ہولناکی اور شدت کو نمایاں کرنا مقصود ہے۔
عدد 70 یہاں خوف اور بڑائی کی زبان ہے۔
قرآن عددی زبان کی بنیاد خود رکھتا ہے
ایک نہایت اہم آیت ہے:
“جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوں”
(سورۃ البقرہ 2:261)
یہاں ہمیں ایک واضح عددّی ترتیب ملتی ہے:
- ایک دانہ
- سات بالیاں
- ہر بالی میں سو دانے
- یعنی سات سو گنا اجر
یہ صرف حساب نہیں، بلکہ:
اللہ کی عطا کی وسعت کا بیان ہے۔
اسی ترتیب پر بعد کے اعداد سمجھے جاتے ہیں۔
حدیث: اسی زبان کا تسلسل
جب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
- ستر ہزار لوگ بغیر حساب جنت میں جائیں گے
- مغفرت کی کثرت
- اجر کی بے پناہ وسعت
تو یہ کوئی نیا نظام نہیں۔
یہ اسی عددی زبان کا تسلسل ہے جو قرآن پہلے ہی قائم کر چکا ہے۔
بعض روایات میں تو:
- ہر ستر ہزار مزید ستر ہزار کی شفاعت کرتے ہیں
یہاں پیغام صاف ہے:
گنتی چھوڑ دو، اللہ کی رحمت پر نظر رکھو۔
جاہلی عربی شاعری: ثقافتی دلیل
اسلام سے پہلے عرب:
- اعداد کو محاوراتی طور پر استعمال کرتے تھے
کوئی شاعر کہتا:
میں نے اسے ستر بار سمجھایا
مطلب ہوتا:
میں نے بار بار، بے شمار دفعہ سمجھایا
کوئی سننے والا یہ نہیں پوچھتا تھا:
واقعی ستر بار؟
قرآن اسی زندہ زبان میں نازل ہوا۔
بائبل کی مثالیں: مشترکہ سامی روایت
یہ انداز صرف اسلامی متون تک محدود نہیں۔
پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی:
- ستر بزرگ
- ستر ضرب سات مرتبہ معاف کرنا
- ستر سال کی آزمائش
کا ذکر ملتا ہے۔
یہ سب:
- تکمیل
- مدت
- شدت
کے لیے آتا ہے۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن اسی مشترکہ سامی لسانی روایت میں بات کر رہا ہے۔
فقہ کے چاروں مذاہب: ایک ہی اصول
یہ بات نہایت اہم ہے کہ چاروں سنی فقہی مذاہب اس نکتے پر متفق ہیں۔
ان سب کا اصول یہ ہے:
جہاں عدد قانون بنائے، وہاں وہ حرفِ آخر ہے۔
جہاں عدد معنی بیان کرے، وہاں وہ لسانی ہے۔
اسی لیے:
- پانچ نمازیں قطعی ہیں
- چار گواہ قطعی ہیں
- تین طلاق قطعی ہیں
لیکن:
- ستر مرتبہ مغفرت
- ستر ہزار نجات
- ستر ہاتھ زنجیر
کو عددی حد نہیں سمجھا جاتا۔
عددی نقشہ: پوری تصویر ایک نظر میں
جب سب کو اکٹھا کیا جائے تو یہ ترتیب سامنے آتی ہے:
- 7 → تکمیل
- 70 → کثرت
- 700 → کئی گنا اجر
- 70,000 → بے شمار رحمت
یہ ترتیب حادثاتی نہیں، بلکہ دانستہ ہے۔
لفظی اور قانونی فرق: سنہرا اصول
علماء نے ایک سادہ قاعدہ اپنایا:
قانون میں عدد گنا جاتا ہے۔
ہدایت میں عدد سمجھا جاتا ہے۔
یہی اصول تمام اشکالات ختم کر دیتا ہے۔
یہ سمجھ ایمان کو مضبوط کیوں کرتی ہے؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی وضاحت ایمان کو کمزور کرتی ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ فہم:
- قرآن کی لسانی حکمت دکھاتا ہے
- وحی کی انسانی ہم آہنگی واضح کرتا ہے
- اللہ کی رحمت اور عدل کو متوازن انداز میں پیش کرتا ہے
اللہ:
- قانون میں بالکل واضح ہے
- نصیحت میں اثر انگیز
- اور رحمت میں بے حد وسیع
آخری بات
قرآن اور حدیث میں 70 اور اس جیسے اعداد کا بار بار آنا:
- نہ اتفاق ہے
- نہ محض مبالغہ
- نہ ریاضی کی پابندی
بلکہ یہ:
معنی، وسعت اور شدت کی زبان ہے
جب یہ بات سمجھ میں آ جائے تو سوال ختم ہو جاتا ہے—اور قرآن کی حکمت مزید روشن ہو جاتی ہے۔
وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

