قرآن - 25:2 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدٗا وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٞ فِي ٱلۡمُلۡكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖ فَقَدَّرَهُۥ تَقۡدِيرٗا

ترجمہ: کنزالایمان - الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا(2) || وہ جس کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور اس نے نہ اختیار فرمایا بچہ اور اس کی سلطنت میں کوئی ساجھی نہیں اس نے ہر چیز پیدا کرکے ٹھیک اندازہ پر رکھی۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور اس نے نہ اولاد اختیارفرمائی اور نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا شریک ہے اوراس نے ہر چیز کوپیدا فرمایاپھر اسے ٹھیک اندازے پر رکھا۔ || وہ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور اس نے نہ اولاد اختیارفرمائی اور نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا شریک ہے اوراس نے ہر چیز کوپیدا فرمایاپھر اسے ٹھیک اندازے پر رکھا۔

سورہ الفرقان آیت 2 تفسیر


{اَلَّذِیْ لَهٗ: وہ جس کے لیے ہے۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں :

(1)… آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت خالصتاً  اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔

(2)…  اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار نہ فرمائی۔اس میں  ان یہودیوں اور عیسائیوں  کا رَد ہے جو حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ، مَعَاذَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ۔

(3)… اللہ تعالیٰ کی سلطنت میں  کوئی اس کا شریک نہیں  ہے۔اس میں  بت پرستوں کا رَد ہے جو بتوں  کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔

(4)…ہر چیز کو صرف  اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔

 (5)…ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق ٹھیک اندازے پر رکھا۔( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۳۶۶، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now