قرآن - 35:41 سورہ فاطر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

۞إِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ﳛ وَ لَىٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(41) || بے شک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کرے اور اگر وہ ہٹ جائیں تو اُنہیں کون روکے اللہ کے سوا بے شک وہ حلم والا بخشنے والا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں اور قسم ہے کہ اگر وہ ہٹ جائیں تو اللہ کے سوا انہیں کوئی نہ روک سکے گا۔ بیشک وہ حلم والا، بخشنے والا ہے۔ || بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں اور قسم ہے کہ اگر وہ ہٹ جائیں تو اللہ کے سوا انہیں کوئی نہ روک سکے گا۔ بیشک وہ حلم والا، بخشنے والا ہے۔

سورہ فاطر آیت 41 تفسیر


{اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا: بیشک اللہ آسمانوں  اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں ۔} بیشک اللہ تعالیٰ آسمانوں  اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کریں  ورنہ آسمان و زمین کے درمیان شرک جیسی مَعْصِیَت ہو تو آسمان و زمین کیسے قائم رہیں  اور قسم ہے کہ اگر وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں  تو اللہ تعالیٰ کے سواکوئی اور انہیں  روک نہیں  سکتا۔ بیشک اللہ تعالیٰ حِلم والا ہے اسی لئے وہ کفار کو جلد سزا نہیں  دیتا اور جو اس کی بارگاہ میں  توبہ کر لے تواسے بخشنے والا ہے۔(خازن، فاطر، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳ / ۵۳۷-۵۳۸، روح البیان، فاطر، تحت الآیۃ: ۴۱، ۷ / ۳۵۸، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now