قرآن - 14:26 سورہ ابراھیم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٖ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجۡتُثَّتۡ مِن فَوۡقِ ٱلۡأَرۡضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٖ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ ﹰ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ(26) || اور گندی بات کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں ۔ || اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں ۔

سورہ ابراھیم آیت 26 تفسیر


{وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ:اور گندی بات کی مثال۔} اس آیت میں  مذکور مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ گندی بات یعنی کفریَہ کلام کی مثال اندرائن جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں  ثابت و مستحکم نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں  بلند ہوتیں  ہیں  یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں  اور وہ کوئی دلیل وحجت نہیں  رکھتا جس سے اسے استحکام ملے اورنہ اس میں  کوئی خیر وبرکت ہے کہ وہ قبولیت کی بلندی پر پہنچ سکے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۸۲، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now