{اَكْثَرُ النَّاسِ:اکثر لوگ ۔} یہودیوں اور کفارِ قریش نے سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قصہ دریافت کیا تھا، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی طرح حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قصہ ان کے سامنے بیان کر دیا جیسا تورات میں لکھاتھا تو بھی وہ ایمان نہ لائے، ان کے ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت دکھ ہوا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ آپ کو ان کے ایمان کی کتنی ہی خواہش ہو۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۳ / ۴۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ يوسف آیت 103 تفسیر