{اَتُتْرَكُوْنَ: کیا تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ
حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید نصیحت کرتے ہوئے اپنی قوم سے فرمایا: ’’کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ تم
دنیاکی نعمتوں جیسے باغوں اور چشموں میں ،
کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم ونازک
ہوتاہے، امن و امان کی حالت میں چھوڑ دئیے جاؤ گے کہ یہ
نعمتیں تم سے کبھی زائل نہ ہوں گی،تم پر کبھی عذاب نہ آئے
گا اور تمہیں کبھی موت نہ آئے گی۔ (تمہارا یہ گمان غلط ہے اور
ایسا کبھی نہیں ہو گا۔) (روح البیان، الشعراء، تحت
الآیۃ: ۱۴۶-۱۴۸، ۶ / ۲۹۷-۲۹۸، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۶-۱۴۸، ص۸۲۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الشعراء آیت 146 تفسیر