قرآن - 9:126 سورہ التوبة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

أَوَلَا يَرَوۡنَ أَنَّهُمۡ يُفۡتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٖ مَّرَّةً أَوۡ مَرَّتَيۡنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمۡ يَذَّكَّرُونَ,

ترجمہ: کنزالایمان - اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(126) || کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمایا جاتا ہے پھر (بھی)نہ وہ توبہ کرتے ہیں اورنہ ہی نصیحت مانتے ہیں ۔ || کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمایا جاتا ہے پھر (بھی)نہ وہ توبہ کرتے ہیں اورنہ ہی نصیحت مانتے ہیں ۔

سورہ التوبة آیت 126 تفسیر


{اَوَ لَا یَرَوْنَ:کیا وہ یہ نہیں دیکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ کیا منافقین دیکھتے نہیں کہ ہر سال انہیں ایک یا دو مرتبہ بیماریوں ، مصیبتوں اور قحط سالیوں وغیرہ سے آزمایا جاتا ہے پھر بھی وہ اپنے نفاق اور عہد شکنی سے توبہ کرتے ہیں نہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی سچائی دیکھ کر نصیحت مانتے ہیں۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۶، ۲ / ۲۹۸)

 مومن ہر مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ مومن ہر مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے گناہ کا نتیجہ یا آزمائش سمجھتا ہے جبکہ کافر کی نگاہ صرف موسم کی خرابیوں اور دنیاوی اَسباب پر ہوتی ہے اور یہ منافقین والا حال آج کی بہت بڑی تعداد کا ہے کہ سیلاب، زلزلہ اور اس طرح کی کسی بھی آفت و مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ سائنسی تَوجیہات میں تولنا شروع کردیتے ہیں۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now