قرآن - 44:30 سورہ الدخان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِ(30)مِنْ فِرْعَوْنَؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ(31) || اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی۔ فرعون سے بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات بخشی۔ فرعون سے، بیشک وہ متکبر، حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔ || اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات بخشی۔ فرعون سے، بیشک وہ متکبر، حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔

سورہ الدخان آیت 30 تفسیر


{وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو نجات بخشی۔} اس سے پہلی آیات میں  فرعون کی ہلاکت کی کیفیت بیان کی گئی اور ان آیات میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم پر کئے گئے احسانات کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے بنی اسرائیل کو اس رُسو اکُن عذاب سے نجات بخشی جو انہیں  فرعون کی طرف سے غلامی ،مشقّت سے بھرپور خدمتوں ، محنتوں  اور اولاد کے قتل کئے جانے کی صورت میں  پہنچتا تھا۔ بیشک فرعون متکبر اورحد سے بڑھنے والوں  میں سے تھا۔(تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۹ / ۶۶۱، ، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۸ / ۴۱۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now