{لَا یَغُرَّنَّكَ: تجھے ہرگز دھوکہ نہ دے۔ }شانِ نزول: مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن ہیں لیکن یہ تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی او رمشقت میں مبتلا ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی(بیضاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۶،۲ / ۱۳۵)
اور انہیں بتایا گیا کفار کا یہ عیش و آرام دنیوی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے جبکہ ان کا انجام بہت برا ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ کسی کو کہا جائے بھائی آپ دس منٹ دھوپ میں کھڑے ہوجائیں ، اس کے بعداُسے ہمیشہ کیلئے ائیر کنڈیشنڈ بنگلہ دیدیا جائے اور دوسرے شخص کو دس منٹ سائے دار درخت کے نیچے بٹھا نے کے بعد ہمیشہ کیلئے تپتے ہوئے صحرا میں رکھا جائے تو دونوں میں فائدے میں کون رہا؟ یقینا پہلے والا ۔ مسلمان کی حالت پہلے شخص کی طرح بلکہ اس سے بھی بہتر ہے اور کافروں کی حالت دوسرے شخص سے بھی بدتر ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ آل عمران آیت 196 تفسیر