{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ:بیشک اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔} آسمان و زمین کی ہر چیز، ہر وقت، تمام تر تفصیلات کے ساتھ بغیر کسی کی تعلیم و خبر کے جاننا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ،یہ وصف کسی بندے میں نہیں ، کیونکہ مخلوق کو جو علم ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بتانے سے ہے اور وہ بھی مُتَناہی اور قابلِ فناہے، یعنی اس کی کوئی نہ کوئی انتہاء ہے اور وہ ختم بھی ہوسکتا ہے ، نیز وہ تب سے ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے بتایا اور تب تک ہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے۔ ایسے علم کو علمِ عطائی کہتے ہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے متعلق ارشاد فرمایا:
’’وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘ (انعام:۷۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم یونہی ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھاتے ہیں۔
اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو مشاہدہ ِ ارض و سَماء کے ذریعے علم عطا کئے جانے کاذکر ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ آل عمران آیت 5 تفسیر