{وَ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ: اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جِنّات نے کہا: قرآن سننے کے بعد ہم مختلف ہو گئے کہ ہم میں سے کچھ جنوں نے اسلام قبول کر لیا اور کچھ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور راہِ حق سے پھر گئے تو جنہوں نے اسلام قبول کر لیاانہوں نے تو ہدایت کا قصد کیا ، ہدایت اور راہِ حق کو اپنا مقصود ٹھہرایا اوربہرحال جو کافر اور راہِ حق سے پھرنے والے ہیں وہ قیامت کے دن جہنم کے ایندھن ہوں گے اور ان کے ذریعے جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔( تفسیرقرطبی،الجن،تحت الآیۃ: ۱۴-۱۵، ۱۰ / ۱۴، الجزء التاسع عشر، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۵، ۴ / ۳۱۷، ملتقطاً)
{ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا: تو وہ جہنم کے ایندھن ہوگئے۔} اِس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر جن جہنم کی آگ کے عذاب میں گرفتار کئے جائیں گے اور یاد رہے کہ جِنّات اگرچہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ آگ کو آگ کے ذریعے عذاب میں مبتلاء کر دے یا جِنّات کی ہَیئَت تبدیل کر کے انہیں عذاب دے لہٰذا یہاں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب جِنّات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں تو انہیں آگ سے عذاب کیسے ہو گا۔( مدارک، الجن، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۲۸۹، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴ / ۳۱۷-۳۱۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الجن آیت 15 تفسیر