قرآن - 77:7 سورہ المرسلات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٞ

ترجمہ: کنزالایمان - عُذْرًا اَوْ نُذْرًا(6)اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌﭤ(7) || حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو ۔ بے شک جس بات کا تم وعدہ دئیے جاتے ہو ضرور ہونی ہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان عذر کی گنجائش نہ چھوڑنے کیلئے یا ڈرانے کیلئے۔ بیشک جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ || عذر کی گنجائش نہ چھوڑنے کیلئے یا ڈرانے کیلئے۔ بیشک جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔

سورہ المرسلات آیت 7 تفسیر


{عُذْرًا اَوْ نُذْرًا: عذر کی گنجائش نہ چھوڑنے کیلئے یا ڈرانے کیلئے۔} یعنی ذکر کا اِلقا کرنا ا س لئے ہے کہ مخلوق میں  سے کسی کے لئے عذر بیان کرنے کی کوئی گنجائش نہ ر ہے یا انہیں  (اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے کے لئے ہے۔( صاوی، المرسلات، تحت الآیۃ: ۶، ۶ / ۲۲۹۳)

{اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ: بیشک جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے پانچ صفات کی قَسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ اے کفارِ مکہ ! مرنے کے بعد اُٹھائے جانے،عذاب دئیے جانے اور قیامت کے آنے کا جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے یہ بات ضرور واقع ہونے والی ہے اور اس کے ہونے میں  کچھ بھی شک نہیں  ۔( جلالین، المرسلات، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۸۵، مدارک، المرسلات، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۳۱۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now