قرآن - 77:9 سورہ المرسلات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتۡ

ترجمہ: کنزالایمان - فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ(8)وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ(9)وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ(10) || پھر جب تارے مَحْو کردئیے جائیں ۔ اور جب آسمان میں رخنے پڑیں ۔ اور جب پہاڑ غبار کرکے اُڑا دئیے جا ئیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر جب تارے مٹا دئیے جائیں گے۔ اور جب آسمان پھاڑ دئیے جائیں گے۔ اور جب پہاڑ غبار بناکے اڑا دئیے جا ئیں گے۔ || پھر جب تارے مٹا دئیے جائیں گے۔ اور جب آسمان پھاڑ دئیے جائیں گے۔ اور جب پہاڑ غبار بناکے اڑا دئیے جا ئیں گے۔

سورہ المرسلات آیت 9 تفسیر


{فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ: پھر جب تارے مٹا دئیے جائیں  گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں  قیامت واقع ہونے کی علامات بیان کی جا رہی ہیں ۔

قیامت کی تین علامتیں :

            اس کی ایک علامت یہ ہے کہ اس دن ستاروں کو بے نور کر کے مٹا دیا جائے گا ۔قیامت کے دن ستاروں  کی ایک اور حالت بیان کرتے ہوئے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ’’وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ‘‘(تکویر:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب تارے جھڑ پڑیں  گے۔

            اور ارشاد فرمایا: ’’وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ‘‘(انفطار:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ستارے جھڑ پڑیں  گے۔

          دوسری علامت یہ ہے کہ اس دن آسمان اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے پھٹ جائیں  گے اور ان میں  سوراخ ہوجائیں  گے۔قیامت کے دن آسمان پھٹنے کے بعد کی حالتیں  بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پرارشاد فرمایا:

’’فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ‘‘(رحمٰن:۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول جیسا (سرخ) ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىٕذٍ وَّاهِیَةٌ‘‘(حاقہ:۱۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن وہ بہت کمزورہوگا۔

          تیسری علامت یہ ہے کہ اس دن پہاڑ غبار بناکے اُڑا دئیے جا ئیں  گے۔قیامت کے دن پہاڑوں  کی اور حالتیں  بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر ارشاد فرمایا:            ’’ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ‘‘(نمل:۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تو پہاڑوں  کو دیکھے گا انہیں  جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں  گے۔

            اور ارشاد فرمایا:  ’’وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا ‘‘(واقعہ:۵،۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور پہاڑ خوب چُورا چُورا کردیئے جائیں گے ۔تووہ ہوا میں  بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں  گے۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now