قرآن - 13:40 سورہ الرعد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ وَعَلَيۡنَا ٱلۡحِسَابُ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ(40) || اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں کوئی وعدہ جو انہیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی اپنے پاس بلائیں تو بہر حال تم پر تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور (اے حبیب!) اگر ہم تمہیں کوئی وعدہ دکھا د یں جو ہم ان سے کررہے ہیں یاہم تمہیں پہلے ہی وفات دیدیں تو آپ پر توبہرحال تبلیغ کرنا لازم ہے اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔ || اور (اے حبیب!) اگر ہم تمہیں کوئی وعدہ دکھا د یں جو ہم ان سے کررہے ہیں یاہم تمہیں پہلے ہی وفات دیدیں تو آپ پر توبہرحال تبلیغ کرنا لازم ہے اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔

سورہ الرعد آیت 40 تفسیر


{وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ:اور اگر ہمیں  تمہیں  دکھا دیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم کافروں  کوعذاب دینے کا جو وعدہ کر رہے ہیں ،اس میں  سے کوئی وعدہ آپ کو آپ کی زندگی میں  ہی دکھا دیں  یا وہ وعدہ دکھانے سے پہلے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وفات دے دیں  تو دونوں  صورتیں  ممکن ہیں  لیکن آپ کی ذمہ داری بہرحال تبلیغ فرمانا ہے اور صرف یہی آپ کی ذمہ داری ہے ، بقیہ قیامت کے دن ان کا حساب لینا اور ان کے اعمال کی جزا دینا یہ ہمارے ذمے ہے لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں  کے اِعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں  اور ان کے عذاب کی جلدی نہ کریں ۔(خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳ / ۷۱، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۵۶۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now