{وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ:اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم کافروں کوعذاب دینے کا جو وعدہ کر رہے ہیں ،اس میں سے کوئی وعدہ آپ کو آپ کی زندگی میں ہی دکھا دیں یا وہ وعدہ دکھانے سے پہلے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وفات دے دیں تو دونوں صورتیں ممکن ہیں لیکن آپ کی ذمہ داری بہرحال تبلیغ فرمانا ہے اور صرف یہی آپ کی ذمہ داری ہے ، بقیہ قیامت کے دن ان کا حساب لینا اور ان کے اعمال کی جزا دینا یہ ہمارے ذمے ہے لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں کے اِعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں اور ان کے عذاب کی جلدی نہ کریں ۔(خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳ / ۷۱، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۵۶۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الرعد آیت 40 تفسیر