قرآن - 13:42 سورہ الرعد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَقَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَلِلَّهِ ٱلۡمَكۡرُ جَمِيعٗاۖ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٖۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلۡكُفَّـٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًاؕ -یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍؕ- وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ(42) || اور ان سے اگلے فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر کسے ملتا ہے پچھلا گھر۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔وہ جانتا ہے جو کچھ کوئی جان عمل کمائے اور عنقریب کافر جان لیں گے کہ آخرت کا اچھا انجام کس کے لئے ہے؟ || اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔وہ جانتا ہے جو کچھ کوئی جان عمل کمائے اور عنقریب کافر جان لیں گے کہ آخرت کا اچھا انجام کس کے لئے ہے؟

سورہ الرعد آیت 42 تفسیر


{وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں ۔} اس آیت میں  رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مشرکینِ مکہ سے پہلے گزری ہوئی اُمتوں  کے کفار اپنے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کرچکے ہیں  جیسے نمرود نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ، فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ اور یہودیوں  نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کیا اوران مقابلوں  میں  ہر طرح کی چالیں  چلیں  لیکن پھر بھی ناکام و نامراد ہوئے کیونکہ اصل تدبیر کا مالک تواللّٰہ تعالیٰ ہی ہے  پھر اس کی مشیت کے بغیرکسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ۔ 

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now