قرآن - 61:4 سورہ الصف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4) || بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انھیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگاپلائی ۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ۔ || بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ۔

سورہ الصف آیت 4 تفسیر


{اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ: بیشک اللّٰہ ان لوگوں  سے محبت فرماتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ ان لوگوں  سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں  جنگ کے دوران اس طرح صفیں  باندھ کر لڑتے ہیں  گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں ،ان میں  ایک سے دوسرا ملا ہوا ،ہر ایک اپنی اپنی جگہ جما ہوا اوردشمن کے مقابلے میں  سب کے سب ایک چیز کی طرح ہیں ۔( خازن، الصف، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۲۶۲، ملخصاً) مقصود یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو بہادر مجاہد پسند ہیں  جو ڈٹ کر کفار کا مقابلہ کریں  اور پیٹھ نہ دکھائیں ، اس زمانہ میں  چونکہ جہاد میں  صفیں  باندھی جاتی تھیں ، اس لئے یہاں  صف کا ذکر ہوا جبکہ ہمارے دورمیں  اب صفیں  باندھ کربھی جہاد کی صورت ہوسکتی ہے اور دوسرے طریقے سے بھی اور اب ہر وہ طریقہ اس میں  شامل ہوگا جس میں  ایک مفید نظم و ضبط ہو اورجو آپس میں  ایک دوسرے کی قوت و طاقت اور دوسروں  پر فتح کا ذریعہ بنے۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now