قرآن - 38:61 سورہ ص ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابٗا ضِعۡفٗا فِي ٱلنَّارِ

ترجمہ: کنزالایمان - قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ- لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْؕ-اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَاۚ-فَبِئْسَ الْقَرَارُ(60)قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ(61) || تابع بولے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملو یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے تو کیا ہی برا ٹھکانا۔ وہ بولے اے ہمارے رب جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دونا عذاب بڑھا۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔(پیروکار) کہیں گے بلکہ تمہیں کوئی خوش آمدید نہیں ۔تم ہی یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہوتو کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ۔ (پھر پیروکار) کہیں گے:اے ہمارے رب! جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُگنا عذاب بڑھا۔ || ۔(پیروکار) کہیں گے بلکہ تمہیں کوئی خوش آمدید نہیں ۔تم ہی یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہوتو کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ۔ (پھر پیروکار) کہیں گے:اے ہمارے رب! جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُگنا عذاب بڑھا۔

سورہ ص آیت 61 تفسیر


{قَالُوْا: وہ کہیں  گے۔} یعنی پیروکار اپنے سرداروں  سے کہیں  گے : بلکہ تمہیں  کھلی جگہ نہ ملے۔ تم ہی یہ عذاب ہمارے آگے لائے ہو کیونکہ تم نے پہلے کفر اختیار کیا اور پھرہمیں  بھی اس راہ پر چلایا تو جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (خازن، ص، تحت الآیۃ: ۶۰، ۴ / ۴۵) اس سے معلوم ہو اکہ اہلِ جنت آپس میں  اتفاق اور محبت رکھیں گے جبکہ اہلِ جہنم آپس میں  نا اتفاقی کا شکار ہوں  گے۔

{قَالُوْا: وہ کہیں  گے۔} یعنی پیروی کرنے والے کفار اپنے سرداروں  کے متعلق بارگاہِ الٰہی میں  عرض کریں  گے کہ اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، جو یہ عذاب ہمارے آگے لایا اسے آگ میں  ہم سے دگنا عذاب دے کیونکہ وہ کافر بھی ہے اور کافر گَر بھی اور ہم صرف کافر ہیں ۔( روح البیان، ص، تحت الآیۃ: ۶۱، ۸ / ۵۲-۵۳، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now