قرآن - 37:11 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَهُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَم مَّنۡ خَلَقۡنَآۚ إِنَّا خَلَقۡنَٰهُم مِّن طِينٖ لَّازِبِۭ

ترجمہ: کنزالایمان - فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَاؕ-اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ(11) || تو ان سے پوچھو کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق (آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ) کی بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو ان سے پوچھو،کیا اِن لوگوں کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری (دوسری) مخلوق کی۔ بیشک ہم نے انہیں چپکنے والی مٹی سے بنایا۔ || تو ان سے پوچھو،کیا اِن لوگوں کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری (دوسری) مخلوق کی۔ بیشک ہم نے انہیں چپکنے والی مٹی سے بنایا۔

سورہ الصافات آیت 11 تفسیر


{فَاسْتَفْتِهِمْ: تو ان سے پوچھو۔} کفارِ مکہ دوبارہ زندہ کئے جانے کو عقلی طور پر محال سمجھتے تھے تواس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ کفارِ مکہ سے پوچھیں ’’ کیا اِن کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری دوسری مخلوق مثلاًآسمان،زمین اور فرشتوں  وغیرہ کی؟ تو جس قادرِ برحق کو آسمان و زمین جیسی عظیم مخلو ق کو پیدا کر دینا کچھ بھی مشکل اور دشوار نہیں  تو انسانوں  کو پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہوسکتا ہے۔بیشک ہم نے ا نسانوں  کوچپکنے والی مٹی سے بنایا،یہ ان کے کمزور ہونے کی ایک اور دلیل ہے کہ ان کی پیدائش کا اصل مادہ مٹی ہے جو کوئی شدت اور قوت نہیں  رکھتی اور اس میں  ان پر ایک اور دلیل قائم فرمائی گئی ہے کہ چپکتی مٹی ان کا مادہِ پیدائش ہے تو اب جسم کے گل جانے اور حد یہ ہے کہ مٹی ہوجانے کہ بعد اُس مٹی سے پھر دوبارہ پیدائش کو وہ کیوں  ناممکن جانتے ہیں  ،جب مادہ موجود اور بنانے والا موجود توپھر دوبارہ پیدائش کیسے محال ہوسکتی ہے۔ (مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۹۹۸-۹۹۹، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now