{ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا: کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں کفارِ مکہ کا ایک سوال ذکر کیا گیا ہے کہ کیا ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کیا جائے گا حالانکہ ہم تو مٹی ہو چکے ہوں گے اور ہماری صرف ہڈیاں باقی ہوں گی،اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا حالانکہ انہیں مرے ہوئے ایک زمانہ گزر چکا ہے۔کفار کے نزدیک چونکہ اُن کے باپ دادا کا زندہ کیا جانا خود اُن کے زندہ کئے جانے سے زیادہ بعید تھا اس لئے انہوں نے یہ کہا ۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۶، ۵ / ۱۷۳۳-۱۳۳۴، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۷، ص۹۹۹، ملتقطاً)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ ان کفار سے فرما دیں کہ ’’ہاں ! تم سب دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اس وقت تمہارا حال یہ ہو گا کہ تم ذلیل و رُسوا ہوگے۔(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۸، ۷ / ۴۵۲، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الصافات آیت 18 تفسیر