قرآن - 37:12 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ(12)وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ(13)وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ(14)وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(15) || بلکہ تمہیں اچنبا آیا اور وہ ہنسی کرتے ہیں ۔ اور سمجھائے نہیں سمجھتے۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔ ترجمہ: کنزالعرفان بلکہ تم نے تعجب کیااور وہ مذاق اڑاتے ہیں ۔ اورجب انہیں سمجھایا جائے تو سمجھتے نہیں ۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں توٹھٹھا کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں یہ تو کھلا جادوہی ہے۔ || بلکہ تم نے تعجب کیااور وہ مذاق اڑاتے ہیں ۔ اورجب انہیں سمجھایا جائے تو سمجھتے نہیں ۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں توٹھٹھا کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں یہ تو کھلا جادوہی ہے۔

سورہ الصافات آیت 12 تفسیر


{بَلْ عَجِبْتَ: بلکہ تم نے تعجب کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ نے کفار ِمکہ کے انکار پر تعجب کیا کہ آپ کی رسالت اور مرنے کے بعد اٹھنے پر دلالت کرنے والی واضح نشانیاں  اور دلائل ہونے کے باوجود وہ کس طرح انکار کرتے ہیں  اور وہ کفار آپ کا اور آپ کے تعجب کرنے کا یا مرنے کے بعد اٹھنے کامذاق اڑاتے ہیں ، اور جب انہیں  کسی چیز کے ذریعے سمجھایا جائے تو سمجھتے نہیں  ،اور جب چاند کے ٹکڑے ہونا وغیرہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں  تو مذاق کرتے ہیں  اور کہتے ہیں  یہ تو کھلا جادوہی ہے۔(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۵، ص۹۹۹)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now