{بَلْ عَجِبْتَ: بلکہ تم نے تعجب کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ نے کفار ِمکہ کے انکار پر تعجب کیا کہ آپ کی رسالت اور مرنے کے بعد اٹھنے پر دلالت کرنے والی واضح نشانیاں اور دلائل ہونے کے باوجود وہ کس طرح انکار کرتے ہیں اور وہ کفار آپ کا اور آپ کے تعجب کرنے کا یا مرنے کے بعد اٹھنے کامذاق اڑاتے ہیں ، اور جب انہیں کسی چیز کے ذریعے سمجھایا جائے تو سمجھتے نہیں ،اور جب چاند کے ٹکڑے ہونا وغیرہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو کھلا جادوہی ہے۔(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۵، ص۹۹۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الصافات آیت 12 تفسیر