{اِنَّهَا شَجَرَةٌ: بیشک وہ ایک درخت ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں کافروں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ بیشک زقوم ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے اور اس کی شاخیں جہنم کے ہر طبقے میں پہنچتی ہیں ، اس کا شگوفہ بد صورتی میں ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں یعنی نہایت بدہیئت اور قبیح المَنظر ، سانپوں کے پَھن کی طرح۔چونکہ کفار کا کفر دل میں تھا اور بد اَعمالیاں ظاہری جسم میں اور وہ خود انسانی شکل میں شیطان تھے۔ اس لئے انہیں سزا بھی اسی قسم کی دی گئی ،نیز جب ا س درخت کا اصل عُنصر ہی آگ ہے تو آگ اسے کیسے جلائے گی؟( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۶۴-۶۵، ۷ / ۴۶۵، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الصافات آیت 64 تفسیر