قرآن - 37:64 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

إِنَّهَا شَجَرَةٞ تَخۡرُجُ فِيٓ أَصۡلِ ٱلۡجَحِيمِ

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُ جُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِ (64)طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ (65) || بے شک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے۔ اس کا شگوفہ جیسے دیووں کے سر۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ اس کا شگوفہ ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں ۔ || بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ اس کا شگوفہ ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں ۔

سورہ الصافات آیت 64 تفسیر


{اِنَّهَا شَجَرَةٌ: بیشک وہ ایک درخت ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  کافروں  کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ بیشک زقوم ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے اور اس کی شاخیں  جہنم کے ہر طبقے میں  پہنچتی ہیں ، اس کا شگوفہ بد صورتی میں  ایسے ہے جیسے شیطانوں  کے سرہوں یعنی نہایت بدہیئت اور قبیح المَنظر ، سانپوں  کے پَھن کی طرح۔چونکہ کفار کا کفر دل میں  تھا اور بد اَعمالیاں  ظاہری جسم میں  اور وہ خود انسانی شکل میں  شیطان تھے۔ اس لئے انہیں  سزا بھی اسی قسم کی دی گئی ،نیز جب ا س درخت کا اصل عُنصر ہی آگ ہے تو آگ اسے کیسے جلائے گی؟( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۶۴-۶۵، ۷ / ۴۶۵، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now