{اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ: کیا جس نے پیدا کیاوہ نہیں جانتا؟ ۔} اس سے پہلی آیت میں کئے ہوئے دعویٰ کی دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس رب تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت سے تمام اَشیاء کو وجود بخشا ہے اور انہی چیزوں میں تمہاری آہستہ یا بلند آواز سے کی گئی گفتگو بھی شامل ہے تو کیا اسے تمہاری باتوں کا علم نہ ہو گا حالانکہ ا س کی شان تو یہ ہے کہ وہ ہر باریکی کو جاننے والاہے حتّٰی کہ وہ اندھیری رات میں ٹھوس پتھر پر چلنے والی سیاہ چیونٹی کے نشانات کوبھی دیکھتا ہے اور وہ تمام باطنی چیزوں پر خبردار ہے۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۱۴، ۱۰ / ۸۷، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الملك آیت 14 تفسیر