{اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا: جب وہ کفار جہنم میں ڈالے جائیں گے۔} یہاں سے اللّٰہ تعالیٰ نے جہنم کے اوصاف بیان فرمائے ہیں ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب وہ کفار جہنم میں ا س طرح ڈالے جائیں گے جس طرح بڑی آگ میں لکڑیاں ڈالی جاتی ہیں تو وہ گدھے کی آواز کی طرح جہنم کی خوفناک چنگھاڑ سنیں گے اور اس وقت جہنم ایسے جوش مارتی ہو گی جیسے پانی ہنڈیا میں جوش مارتا ہے۔( تفسیر کبیر، الملک، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰ / ۵۸۶، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۳۱۱، ملتقطاً)
پل صراط سے گزرتے وقت جنَّتیوں پر انعام:
یاد رہے کہ قیامت کے دن جنَّتی اگرچہ پل صراط پر سے گزریں گے لیکن ا س وقت ان پر یہ انعام ہو گا کہ وہ جہنم کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے ،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ ‘‘(انبیاء:۱۰۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الملك آیت 7 تفسیر