{قُلْ: تم فرماؤ ۔} کفارِمکہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی وفات کی آرزو رکھتے تھے ، اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ا رشادفرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے فرما دیں کہ ہم مومن ہیں اور دو اچھی چیزوں میں سے ایک کے مُنتظر ہیں (1) تمہاری آرزو کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ مجھے اور میرے صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو وفات دیدے تو(اس میں بھی ہمارا فائدہ ہے کہ ) ہم جنت میں چلے جائیں گے ۔(2)اللّٰہ تعالیٰ تمہارے مقابلے میں ہماری مدد فرما کر ہم پر رحم فرمائے اور ہماری عمریں دراز کردے ۔ دونوں صورتوں میں فائدہ ہمارا ہی ہے اب تم بتاؤ کہ وہ کون ہے جو تمہیں اللّٰہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب سے بچالے گا؟ تمہیں تو بہر حال اپنے کفر کے سبب ضرور عذاب میں مبتلا ہونا ہے ،ہماری وفات تمہیں کیا فائدہ دے گی۔( مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۱۲۶۵، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الملك آیت 28 تفسیر