{اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا: وہ جس نے ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔ہر آسمان دوسرے کے اوپر کمان کی طرح ہے اور دنیا کا آسمان زمین کے اوپر گنبد کی طرح ہے اور ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے کئی سوبرس کی راہ ہے۔ تو اے بندے! تو اللّٰہ تعالیٰ کے بنانے میں کوئی فرق اور کوئی عیب نہیں دیکھے گا بلکہ انہیں مضبوط،درست،برابر اور مُتَناسِب پائے گا۔تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ تا کہ تو اپنی آنکھوں سے اس خبر کے درست ہونے کو دیکھ لے اور تیرے دل میں کوئی شبہ باقی نہ رہے،پھر دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔(خازن،الملک، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴ / ۲۸۹-۲۹۰، مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۳-۴، ص۱۲۶۱-۱۲۶۲، روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۱۰ / ۷۸-۷۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الملك آیت 4 تفسیر