قرآن - 67:5 سورہ الملك ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ(5) || اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کوچراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اورضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے ۔ || اورضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے ۔

سورہ الملك آیت 5 تفسیر


{وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ: اور ضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں  سے آراستہ کیا۔} ا س آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے نیچے کے آسمان کو ستاروں  سے آراستہ کیا جو کہ زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے اور لوگ اسے دیکھتے ہیں  اور ان ستاروں  کوشیطانوں  کے لیے مارنے کا ذریعہ بنایا کہ جب شَیاطین آسمان کی طرف فرشتوں  کی گفتگو سننے اور باتیں  چُرانے پہنچیں  تو ستاروں  سے شعلے اور چنگاریاں  نکلیں  جن سے انہیں  مارا جائے اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان شَیاطین کے لیے دنیا میں  جلانے کے بعد آخرت میں  بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۲۹۰)

            اس کی نظیر یہ آیاتِ مبارکہ ہیں : ’’ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ ﹰالْكَوَاكِبِۙ(۶) وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ‘‘(صٰفّٰت:۶،۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو ستاروں  کے سنگھار سے آراستہ کیا۔ اور ہر سرکش شیطان سے حفاظت کیلئے ۔

مسجدوں  میں  روشنی کے آلات نَصب کرنے کی ترغیب:

             علامہ اسماعیل حقی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس مقام پر مَساجد میں  روشنی کرنے کے آلات نَصب کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں  ’’جب اللّٰہ تعالیٰ نے زمین کی چھت آسمان کوستاروں  سے مُزَیَّن فرمایا ہے تو بندوں  کو چاہئے کہ وہ مساجد کی چھتوں  کو قندیلوں  اور چراغوں (اورفی زمانہ روشنی حاصل کرنے کے جدید آلات)سے مُزَیَّن کریں ۔جب حضرت عمر بن خطاب  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے نمازِ تراویح میں  لوگوں  کو حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پیچھے اکٹھا کیا تو مسجد میں  قندیلیں  لٹکائیں ، انہیں  دیکھ کر حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:اے ابنِ خطاب! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ،آپ نے ہماری مسجدوں  کو روشن کیا، اللّٰہ تعالیٰ آپ کی قبر کو روشن کرے۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۵، ۱۰ / ۸۱، سیرت حلبیہ، باب الہجرۃ الی المدینۃ، ۲ / ۱۱۲)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now