قرآن - 75:23 سورہ القيامة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٞ

ترجمہ: کنزالایمان - وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌ(22)اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ(23) || کچھ منہ اس دن تر و تازہ ہوں گے ۔ اپنے رب کودیکھتے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔ || کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔

سورہ القيامة آیت 23 تفسیر


{وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌ: کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  مخلص مومنین کے بارے میں  فرمایا گیا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس دن کچھ چہرے ایسے ہوں  گے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت و کرم پر مَسرور ہوں  گے اور ان سے اَنوار پھوٹ رہے ہوں  گے اور انہیں  اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت سے سرفراز کیا جائے گا۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳، ۴ / ۳۳۵، روح البیان،القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳،۱۰ / ۲۵۰)

جنتیوں  میں  سب سے زیادہ عزت والا شخص:

            حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ادنیٰ درجے کا جنتی اپنے باغات،بیویوں ،خادموں  اور تختوں  کو ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا،اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں  سب سے زیادہ عزت والا وہ ہو گا جو صبح و شام اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار سے مُشَرَّف ہوگا۔ اس کے بعد نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پڑھا: ’’وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‘‘ ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ القیامۃ، ۵ / ۲۱۸، الحدیث: ۳۳۴۱)

{اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ: اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں  گے۔} اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں  مومنین کو اللّٰہ تعالیٰ کا دیدارہو گا، یہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے اور اس پر قرآن و حدیث اور اِجماع کے کثیر دلائل قائم ہیں  اور یہ دیدار کسی کَیْفِیَّت اور جِہَت کے بغیر ہوگا۔

            نوٹ:اس عقیدے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے سورۂ اَنعام کی آیت نمبر 103کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now