قرآن - 23:102 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(102)وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ(103) || تو جن کی تولیں بھاری ہوئیں وہی مراد کو پہنچے۔ اور جن کی تولیں ہلکی پڑیں وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی کامیاب ہونے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہ وہی ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا، (وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ || تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی کامیاب ہونے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہ وہی ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا، (وہ) ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

سورہ المؤمنون آیت 102 تفسیر


{ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ: تو جن کے پلڑے بھاری ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا معنی یہ ہے کہ جس کے عقائد درست اور اعمال نیک ہوں  گے تو اس کے اعمال کا  اللہ تعالیٰ کے نزدیک وزن ہو گا اور یہی لوگ اپنا مقصد ومطلوب کو پا کر کامیاب ہوں  گے اور جن کے عقائد غلط اور اعمال نیک نہ ہوں  گے، ان کے اعمال کا  اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی وزن نہ ہو گا اور ان سے مراد کفار ہیں ، انہوں  نے اپنی جانوں  کو نقصان میں  ڈالا اوروہ ہمیشہ دوزخ میں  رہیں  گے۔( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۰۲-۱۰۳، ۴ / ۶۴-۶۵)

            نوٹ: اعمال کے وزن سے متعلق مزید تفصیل کے لئے سورۂ اَعراف آیت نمبر8اور 9کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now