قرآن - 23:15 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَﭤ(15)ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ(16)وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىٕقَ ﳓ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ(17) || پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو۔ پھر تم سب قیامت کے دن اُٹھائے جاؤ گے۔ اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں بنائیں اور ہم خَلق سے بے خبر نہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو۔ پھر تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم مخلوق سے بے خبر نہیں ۔ || پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو۔ پھر تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم مخلوق سے بے خبر نہیں ۔

سورہ المؤمنون آیت 15 تفسیر


{بَعْدَ ذٰلِكَ: اس کے بعد۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق مکمل ہونے کے بعد جب تمہاری عمریں  پور ی ہو جائیں  گی تو تمہیں  ضرور موت آئے گی، پھر تم سب قیامت کے دن حساب و جزا کے لئے اٹھائے جاؤ گے۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۳ / ۳۲۲)

{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا: اور بیشک ہم نے بنائے۔} ا س آیت میں   اللہ تعالیٰ نے آسمانوں  کی تخلیق سے اپنی قدرت پر اِستدلال فرمایا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے۔ان سے مراد سات آسمان ہیں  جو فرشتوں  کے چڑھنے اُترنے کے راستے ہیں ۔اور فرمایا کہ ہم مخلوق سے بے خبر نہیں ،سب کے اَعمال، اَقوال اور چھپی حالتوں  کو جانتے ہیں  اورکوئی چیز ہم سے چھپی نہیں ۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳ / ۳۲۲)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now