{بَعْدَ ذٰلِكَ: اس کے بعد۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق مکمل ہونے کے بعد جب تمہاری عمریں پور ی ہو جائیں گی تو تمہیں ضرور موت آئے گی، پھر تم سب قیامت کے دن حساب و جزا کے لئے اٹھائے جاؤ گے۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۳ / ۳۲۲)
{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا: اور بیشک ہم نے بنائے۔} ا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے اپنی قدرت پر اِستدلال فرمایا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے۔ان سے مراد سات آسمان ہیں جو فرشتوں کے چڑھنے اُترنے کے راستے ہیں ۔اور فرمایا کہ ہم مخلوق سے بے خبر نہیں ،سب کے اَعمال، اَقوال اور چھپی حالتوں کو جانتے ہیں اورکوئی چیز ہم سے چھپی نہیں ۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳ / ۳۲۲)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ المؤمنون آیت 15 تفسیر