قرآن - 23:73 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَإِنَّكَ لَتَدۡعُوهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(73)وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ(74) || اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔ اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔ اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے وہ ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں ۔ || اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔ اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے وہ ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں ۔

سورہ المؤمنون آیت 73 تفسیر


{وَ اِنَّكَ: اور بیشک تم۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک آپ انہیں  سیدھی راہ یعنی دین ِاسلام کی طرف بلاتے ہیں  تو اُن پر لازم ہے کہ آپ کی دعوت قبول کریں  اور اسلام میں  داخل ہوں ۔( مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۷۶۲)

{وَ اِنَّ الَّذِیْنَ: اور بیشک جو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک جو لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر ایمان نہیں  لاتے وہ ضرور دینِ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔( جلالین، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۲۹۱)

            اس سے معلوم ہوا کہ آخرت پر ایمان لانا اور قیامت کے دن کی ہَولْناکیوں  کا خوف راہِ حق تلاش کرنے اور اس پر چلنے کا بہت مضبوط ذریعہ ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۴، ۶ / ۹۶، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now