{وَ اِنَّكَ: اور بیشک تم۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک آپ انہیں سیدھی راہ یعنی دین ِاسلام کی طرف بلاتے ہیں تو اُن پر لازم ہے کہ آپ کی دعوت قبول کریں اور اسلام میں داخل ہوں ۔( مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۷۶۲)
{وَ اِنَّ الَّذِیْنَ: اور بیشک جو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک جو لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر ایمان نہیں لاتے وہ ضرور دینِ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔( جلالین، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۲۹۱)
اس سے معلوم ہوا کہ آخرت پر ایمان لانا اور قیامت کے دن کی ہَولْناکیوں کا خوف راہِ حق تلاش کرنے اور اس پر چلنے کا بہت مضبوط ذریعہ ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۴، ۶ / ۹۶، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ المؤمنون آیت 73 تفسیر