قرآن - 23:113 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ

ترجمہ: کنزالایمان - قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ(112)قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْــٴَـلِ الْعَآدِّیْنَ(113)قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(114) || فرمایا تم زمین میں کتنا ٹھہرے برسوں کی گنتی سے۔ بولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصہ تو گننے والوں سے دریافت فرما۔ فرمایا تم نہ ٹھہرے مگر تھوڑا اگر تمہیں علم ہوتا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اللہ فرمائے گا : تم زمین میں سالوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں تو گننے والوں سے دریافت فرما۔ فرمائے گا: تم بہت تھوڑا ہی ٹھہرے ہو، اگرتم جانتے۔ || اللہ فرمائے گا : تم زمین میں سالوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں تو گننے والوں سے دریافت فرما۔ فرمائے گا: تم بہت تھوڑا ہی ٹھہرے ہو، اگرتم جانتے۔

سورہ المؤمنون آیت 113 تفسیر


{قٰلَ: فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دوآیات کاخلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے فرمائے گا کہ تم دنیا میں  اور قبر میں  سالوں  کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ کفار اس سوال کے جواب میں  کہیں  گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ۔ کفار یہ جواب اس وجہ سے دیں  گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب کی ہَیبت سے انہیں  اپنے دنیا میں  رہنے کی مدت یاد نہ رہے گی اور انہیں  شک ہوجائے گا، اسی لئے کہیں  گے: اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تواُن فرشتوں  سے دریافت فرما جنہیں  تو نے بندوں  کی عمریں  اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ہے۔  اللہ تعالیٰ کفار کو جواب دے گا کہ اگر تمہیں  دنیا میں  رہنے کی مدت معلوم ہوتی تو تم جان لیتے کہ آخرت کے مقابلے میں  دنیا میں  بہت ہی تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۱۲-۱۱۴، ۳ / ۳۳۳)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now