قرآن - 23:85 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(84)سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(85) || تم فرماؤ کس کا مال ہے زمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر تم جانتے ہو۔ اب کہیں گے کہ اللہ کا تم فرماؤ پھر کیوں نہیں سوچتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ : زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔ اب کہیں گے کہ اللہ کا۔تم فرماؤ: توکیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ || تم فرماؤ : زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔ اب کہیں گے کہ اللہ کا۔تم فرماؤ: توکیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟

سورہ المؤمنون آیت 85 تفسیر


{قُلْ: تم فرماؤ۔} کفار کی اُس بات کا رد فرمانے اور اُن پر حجت قائم فرمانے کے لئے  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں  کہ زمین اور جو کچھ اس میں  ہے وہ سب کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو تومجھے بتاؤ کہ ا ن کا خالق اور مالک کون ہے؟( مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۷۶۳، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳ / ۳۳۰، ملتقطاً)

{سَیَقُوْلُوْنَ: اب کہیں  گے۔}  اللہ تعالیٰ نے کفار کی طرف سے ا س سوال کا دیا جانے والاجواب پہلے ہی اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرما دیا کہ اس سوال کے جواب میں  عنقریب کافر کہیں  گے: ان کا خالق و مالک  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی جواب ہی نہیں  اور مشرکین  اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا اقرار بھی کرتے ہیں ، جب وہ یہ جواب دیں  تو اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرمائیں  کہ پھر تم کیوں  غور نہیں  کرتے تا کہ یہ بات جان جاؤ کہ جس نے زمین کو اور اس کی کائنات کو ابتداء ً پیدا کیا وہ ضرور مُردوں  کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳ / ۳۳۰، ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸۵، ۴ / ۶۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now