قرآن - 23:104 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

تَلۡفَحُ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ وَهُمۡ فِيهَا كَٰلِحُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ(104)اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ(105) || ان کے منہ پر آگ لپٹ مارے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے۔ کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ان کے چہروں کو آگ جلادے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے۔ کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں ؟ تو تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ || ان کے چہروں کو آگ جلادے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے۔ کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں ؟ تو تم انہیں جھٹلاتے تھے۔

سورہ المؤمنون آیت 104 تفسیر


{وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ: اور وہ اس میں  منہ چڑائے ہوں  گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی جانوں  کو نقصان میں  ڈالنے والے بدبختوں  کا حال یہ ہو گا کہ جہنم کی آ گ ان کے چہروں  کو جلادے گی اور جہنم میں  ان کے دونوں  ہونٹ سکڑ کر دانتوں  سے دور ہو جائیں  گے اور ان سے فرمایا جائے گا’’ کیا دنیا میں  تمہارے سامنے میرے قرآن کی آیتیں  نہ پڑھی جاتی تھیں  ؟ضرور پڑھی جاتی تھیں ، لیکن تم انہیں  سن کر میرے عذاب سے ڈرنے کی بجائے انہیں  جھٹلاتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ یہ  اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں  ہے۔( مدارک،المؤمنون،تحت الآیۃ:۱۰۴-۱۰۵،ص۷۶۶، جلالین،المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۰۴-۱۰۵، ص۲۹۳، ملتقطاً)

جہنم کا ایک عذاب:

            حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ’’ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا ’’ آگ انہیں  بھون ڈالے گی اور اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کرناف کو چھونے لگے گا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المؤمنین، ۵ / ۱۱۹، الحدیث: ۳۱۸۷) اللہ تعالیٰ ہمیں  جہنم کے اس دردناک عذاب سے پناہ عطا فرمائے۔

             حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی       عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جہنم میں  بد نصیب ہی جائے گا۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بدنصیب کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: ’’ جو  اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام نہ کرے اور اس کی نافرمانی نہ چھوڑے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ما یرجی من رحمۃ  اللہ عزّوجل یوم القیامۃ، ۴ / ۵۱۶، الحدیث: ۴۲۹۸)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بھی ان آیات سے عبرت ونصیحت حاصل کرے، ہر حال میں   اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے اور کسی بھی حال میں  اس کی نافرمانی نہ کرے۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now