{قٰلَ: فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دوآیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے فرمائے گا کہ تم دنیا میں اور قبر میں سالوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ کفار اس سوال کے جواب میں کہیں گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ۔ کفار یہ جواب اس وجہ سے دیں گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب کی ہَیبت سے انہیں اپنے دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہ رہے گی اور انہیں شک ہوجائے گا، اسی لئے کہیں گے: اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تواُن فرشتوں سے دریافت فرما جنہیں تو نے بندوں کی عمریں اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کفار کو جواب دے گا کہ اگر تمہیں دنیا میں رہنے کی مدت معلوم ہوتی تو تم جان لیتے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا میں بہت ہی تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۱۲-۱۱۴، ۳ / ۳۳۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ المؤمنون آیت 114 تفسیر