{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے فرمائیں ’’اگر تمہیں علم ہے تومجھے اس بات کا جواب دو کہ ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں ہے اور ہر چیز پر حقیقی قدرت و اختیار کس کا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ کفار آپ کے سوال کے جواب میں کہیں گے کہ یہ ملکیت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ آپ ان سے فرمائیں کہ تو پھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو؟ یعنی کس شیطانی دھوکے میں ہو کہ توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو؟ جب تم اقرار کرتے ہو کہ حقیقی قدرت اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعاً باطل ہے۔( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸۸، ۴ / ۶۲، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ المؤمنون آیت 89 تفسیر