{وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ: اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کردیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے انہیں بھوک کے عذاب میں گرفتار کر دیا تو وہ پھر بھی نہ ا س وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور جھکے ہیں اور نہ ہی وہ آئندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عاجزی کریں گے۔( جلالین مع صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۶، ۴ / ۱۳۷۳)
اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرنا بڑی بد بختی کی دلیل ہے۔
{حَتّٰى: یہاں تک۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ جب ہم اُن پر موت کے وقت یا قیامت کے دن کسی سخت عذاب والا دروازہ کھولیں گے تو اس وقت وہ اس عذاب میں ہر بھلائی سے ناامید پڑے ہوں گے۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳ / ۳۲۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ المؤمنون آیت 76 تفسیر