{ اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ : جب حواریوں نے کہا۔} حواریوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی کہ کیا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر آسمان سے نعمتوں سے بھرپور دسترخوان اتارے گا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہو۔( تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳ / ۲۲۶، الجزء السادس، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱ / ۵۳۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ المائدة آیت 112 تفسیر