قرآن - 7:102 سورہ الأعراف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

وَمَا وَجَدۡنَا لِأَكۡثَرِهِم مِّنۡ عَهۡدٖۖ وَإِن وَجَدۡنَآ أَكۡثَرَهُمۡ لَفَٰسِقِينَ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍۚ-وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ(102) || اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا اوربیشک ہم نے ان میں اکثر کو نافرمان ہی پایا۔ || اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا اوربیشک ہم نے ان میں اکثر کو نافرمان ہی پایا۔

سورہ الأعراف آیت 102 تفسیر


{ وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ:اور ہم نے ان کے اکثرلوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا۔} اس عہد سے مراد وہ وعدہ اور عہد و پیمان ہے جو اللہ تعالیٰ نے میثاق کے دن ان سے لیا تھا یا مراد یہ ہے کہ جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یارب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو ہمیں اس سے نجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو اس عہد سے پھر جاتے اور ایمان نہ لاتے۔(بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۲ / ۱۵۴، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ص۳۷۷، ملتقطاً)

مصیبت کے وقت عہد و پیمان اور بعد میں اس کے بر خلاف:

            آیت میں عہد کی جو دوسری تفسیر بیان کی گئی ہے اس کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے احوال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر بھی عملی اعتبار سے ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں کہ کوئی بیمار پڑتا ہے یا مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان کرتا ہے کہ اے اللہعَزَّوَجَلَّ، ایک مرتبہ مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دیدے ، دوبارہ ساری زندگی تیری فرمانبرداری میں گزاروں گا مگر جیسے ہی وہ مصیبت دور ہوتی ہے تو یہ سب عہد و پیمان پسِ پشت ڈال دئیے جاتے ہیں اور وہی پرانی موج مستی اور غفلت و معصیت کی زندگی لوٹ آتی ہے۔

            یہاں تک حضرت نوح ،حضرت ہود ،حضرت صالح ،حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرمائے گئے اب اس کے بعد والی آیتوں سے حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now