{ قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ:فرمایا تجھے مہلت ہے۔} یعنی پہلے نفخہ (صور پھونکنے) تک تجھے مہلت ہے۔ اس مہلت کی مدت سورۂ حجر کی ان آیات میں بیان فرمائی گئی:
’’ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ(۳۷) اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ‘‘(حجر:۳۷، ۳۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ نے فرمایا: پس بیشک توان میں سے ہے جن کو معین وقت کے دن تک مہلت دی گئی ہے۔
اور یہ نَفخۂ اُولیٰ کا وقت ہے جب سب لوگ مرجائیں گے ۔شیطان مردود نے دوسرے نفخہ (صور پھونکنے) تک یعنی مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے وقت تک کی مہلت چاہی تھی اور اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ موت کی سختی سے بچ جائے مگر یہ درخواست قبول نہ ہوئی اور اسے پہلے نفخہ تک کی مہلت دی گئی کہ جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوجائے گا ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الأعراف آیت 15 تفسیر