{وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ:اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ۔} یعنی بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کے باوجود اُن میں سے ایک جماعت حق پر بھی قائم رہی۔ حق پر قائم رہنے والے گروہ سے کون لوگ مراد ہیں ، اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں سے مراد بنی اسرائیل کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم، کیونکہ یہ پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور تورات پر ایمان لائے پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآن پر بھی ایمان لائے (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵ / ۳۸۷)
اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت منسوخ ہونے سے پہلے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا، اس میں کوئی تبدیلی نہ کی اور نہ ہی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کیا۔ (البحر المحیط، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۴ / ۴۰۴) ان کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الأعراف آیت 159 تفسیر