{ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ:پھر انہیں چاہیے کہ اپنا میل کچیل اتاریں ۔} ارشاد فرمایا کہ پھر انہیں چاہیے کہ اپنا میل کچیل اتاریں ، مونچھیں کتروائیں ، ناخن تراشیں ، بغلوں اور زیرِ ناف کے بال دور کریں اور جو منتیں انہوں نے مانی ہوں وہ پوری کریں اور اس آزاد گھر کا طواف کریں ۔ اس سے طوافِ زیارت مراد ہے۔( مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۷۳۷)
خانہ کعبہ کی شان :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو بڑی عظمت و شان عطا فرمائی ہے کہ کوئی ظالم و جابر شخص اس گھر پر قبضہ نہیں کر سکتا، کوئی اس کا مالک ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا ،یہ لوگوں کے قبضے اور ملکیت سے آزاد ہے اور جس نے بھی ا س پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے اسے تباہ و برباد کر دیا جیساکہ ابرہہ اور ا س کے لشکر نے جب خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے کی نیت سے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا تو اس کا جو حشر ہوااِس سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ الحج آیت 29 تفسیر