قرآن - 22:49 سورہ الحج ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَآ أَنَا۠ لَكُمۡ نَذِيرٞ مُّبِينٞ

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(49) || تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سُنانے والا ہوں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرمادو! اے لوگو!میں توصرف تمہارے لیے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔ || تم فرمادو! اے لوگو!میں توصرف تمہارے لیے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔

سورہ الحج آیت 49 تفسیر


{قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ: تم فرمادو! اے لوگو!۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں  کو  اللہ تعالیٰ کی گرفت اور ا س کے عذاب سے مسلسل ڈراتے رہیں  اور ان کی طرف سے مذاق اڑانے کے طور پر جلدی عذاب نازل کرنے کے مطالبات کی وجہ سے انہیں  ڈرانا مَوقوف نہ فرمائیں  اور ان سے فرما دیں  کہ مجھے واضح طور پر  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر سنانے کے لئے بھیجا گیا ہے اور تمہارا مذاق اڑانا مجھے ا س سے نہیں  روک سکتا۔( تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۴۹، ۸ / ۲۳۴)

مبلغین کے لئے نصیحت:

            اس میں  ان تمام مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے جواسلام کے احکامات لوگوں  تک پہنچانے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں  اور نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کر نے کے اہم ترین فریضے کو انجام دے رہے ہیں ، انہیں  چاہئے کہ ان کاموں  کے دوران دل مضبوط رکھیں  اور لوگوں  کی طرف سے ہونے والی طعن و تشنیع اور طنز ومذاق کو خاطر میں  نہ لائیں  اور ا س وجہ سے یہ کام چھوڑ نہ دیں  بلکہ اپنے پیش ِنظرصرف  اللہ تعالیٰ کی رضا کو رکھتے ہوئے ان کاموں  کو جاری رکھیں،اور ایسے لوگوں  کے لئے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہدایت کی دعا کرتے رہیں  ، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو انہیں  ہدایت مل جائے گی ۔

Sign up for Newsletter

×

📱 Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now