{وَ اِنْ: اور اگر۔} اس آیت میں کفار و منافقین کا حال بیان کیا گیا کہ وہ بارہا تجربہ کرچکے تھے اور انہیں کامل یقین تھا کہ سید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ سراسر حق اور عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے اس لئے ان میں جو سچا ہوتا وہ تو خواہش کرتا تھا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کا فیصلہ فرمائیں اور جو حق پر نہ ہوتا وہ جانتا تھا کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سچی عدالت سے وہ اپنی ناجائز مراد نہیں پاسکتا اس لئے وہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ سے ڈرتا اور گھبراتا تھا۔( مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۷۸۶)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
سورہ النور آیت 49 تفسیر